شوبھندو نے بنگلہ دیشی پروہت کا حوالہ دے کر لفٹ فرنٹ کی مذمت کی
اگر مغربی بنگال نہ بنتا تو یہاں کے بنگالیوں کی حالت بھی چنمی کرشن داس جیسی ہوتی۔ ہفتہ کے روز گنیش پوجا کا افتتاح کرنے پہنچے ریاست کے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ایک بار پھر بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی صورتحال پر آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ چنمی کرشن کی والدہ کی آخری رسومات کی تصاویر نے پوری دنیا کے ’سناتنیوں‘ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے شیاما پرساد مکھرجی اور سوامی پرانوانند کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ شوبھندو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ بائیں بازو اور ترنمول حکومتوں نے ان خدمات کو بھلانے کی کوشش کی۔ جواب میں بائیں بازو نے ہندوستان میں اقلیتوں کے حالات کی یاد دلاتے ہوئے عمر خالد سے لے کر اسٹین سوامی کی قید کا ذکر کیا۔
2024 کے نومبر سے بنگلہ دیش میں سنیاسی چنمی کرشن جیل میں قید ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چٹگاو¿ں کی عدالت نے انہیں پانچ گھنٹے کے لیے پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اپنی والدہ سندھیا رانی دھر کی آخری رسومات میں شرکت کے دوران چنمی کرشن کو رو پڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ بنگلہ دیشی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، انتقال سے قبل چنمی کرشن کی والدہ کی آخری خواہش تھی کہ وہ اپنے قید بیٹے کو دیکھیں۔ الزام ہے کہ درخواست دینے کے باوجود چنمی کرشن کو ضمانت نہیں ملی۔ اسی معاملے کا حوالہ شوبھندو نے دیا۔
ہفتہ کے روز راجارہاٹ گوپال پور میں گنیش پوجا کا افتتاح کرتے ہوئے شوبھندو نے کہا، ”دوسری جانب بنگال کے چنمی پربھو کی آنکھوں کے آنسو نے پوری دنیا کے سناتنیوں کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔“ اس کے بعد انہوں نے کہا، ”ان آنسوو¿ں کو دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اگر اس وقت شیاما پرساد مکھرجی یا سوامی پرانوانند کی جدوجہد کے ذریعے ہمیں ہندوستان میں شامل ہونے کا موقع نہ ملا ہوتا، تو آج ہماری حالت بھی شاید چنمی پربھو جیسی ہوتی۔“
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شوبھندو نے اس معاملے پر آواز اٹھائی ہو۔ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہتے ہوئے بھی بنگلہ دیش کے میمن سنگھ میں دیپو داس کے قتل کے بعد انہوں نے سخت موقف اختیار کیا تھا۔ گزشتہ سال دسمبر میں اس واقعے کے بعد انہوں نے احتجاج کی اپیل بھی کی تھی۔ شوبھندو نے کہا تھا، ”جب تک بنگلہ دیش کے قونصل خانے کی جانب سے یہ واضح جواب نہیں مل جاتا کہ دیپو داس کے قاتلوں کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے اور ہندوو¿ں کی سلامتی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، تب تک احتجاج کو مزید شدید سے شدید تر کیا جائے گا۔“ اس بار انہوں نے چنمی کرشن کے معاملے پر بھی آواز اٹھائی ہے۔ اسی دوران انہوں نے شیاما پرساد اور سوامی پرانوانند کی خدمات کا ذکر کیا۔ ان کا طنز تھا کہ سابقہ بائیں بازو اور ترنمول حکومتوں نے ان کی خدمات کو بھلانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے الفاظ میں، ”بنگالی ہندوو¿ں کے ہوم لینڈ بنانے کے مطالبے کو حاصل کرنے کے لیے شیاما پرساد اور سوامی پرانوانند نے جو جدوجہد اور کردار ادا کیا، اسے اس ریاست میں بھلانے کی کوشش کی گئی (بائیں بازو اور ترنمول کی جانب سے)۔ ہم اس روایت اور ورثے کو واپس لانا چاہتے ہیں۔“
شوبھندو نے بنگلہ دیشی پروہت کا حوالہ دے کر لفٹ فرنٹ کی مذمت کی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments