کولکتہ:
یونیک آئیڈنٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا کے قواعد کے مطابق ہر شہری کا شناختی نمبر 'یونیک' یعنی یکتا ہوتا ہے اور دو افراد کے نمبر ایک جیسے ہونا ممکن نہیں۔ تاہم، مغربی بنگال کے ضلع پوربو بردوان (شرقی بردوان) کے کھنڈو گھوش اور رائنا-1 بلاک سے ایک ایسا حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور بینکنگ نظام کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں دو مختلف خواتین کا نہ صرف نام ایک ہے بلکہ ان کے 12 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بھی بالکل ایک جیسے پائے گئے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات اور رقم کی منتقلی
رپورٹ کے مطابق، پلاش ن گاؤں کی رہنے والی جھڑنا داس نے گزشتہ 10 جولائی کو اپنے گاؤں کے ایک سی ایس پی (کسٹمر سروس پوائنٹ) سے اپنے شناختی نمبر اور فنگر پرنٹ کے ذریعے 10، 11 اور 12 جولائی کے دوران کل 27 ہزار روپے نکالے۔
تاہم، 3 اگست کو ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی جانب سے مذکورہ سی ایس پی اکاؤنٹ کو اچانک بند کر دیا گیا۔ جب سی ایس پی کے مالک شیخ ظہیرول نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے سنٹر سے 27 ہزار روپے کی دھوکہ دہی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
تحقیقات میں سنسنی خیز انکشاف
سی ایس پی مالک نے جب معاملے کی چھان بین کی اور 'ویسٹ بنگال گرامین بینک' کی بادولیا برانچ سے رابطہ کیا تو حیرت انگیز سچائی سامنے آئی۔ معلوم ہوا کہ پلاش ن کی جھڑنا داس نے جو رقم نکالی تھی، وہ اصل میں بادولیا گاؤں کی رہنے والی ایک دوسری جھڑنا داس کے بینک اکاؤنٹ سے کٹی تھی۔
سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ سامنے آئی کہ دونوں خواتین کا نام اور ان کے شناختی کارڈ کے تمام 12 ہندسے بالکل ایک جیسے تھے۔ اسی یکسانیت کی وجہ سے بائیو میٹرک تصدیق کے باوجود بینکنگ سسٹم نے ایک خاتون کے فنگر پرنٹ پر دوسری کے اکاؤنٹ سے رقم منتقل کر دی۔
باہمی رضامندی سے معاملے کا حل
واقعے کا علم ہونے کے بعد 3 ستمبر کو دونوں فریقین نے ویسٹ بنگال گرامین بینک کی بادولیا برانچ میں ملاقات کی۔ باہمی بات چیت اور غلط فہمی دور ہونے کے بعد پلاش ن کی جھڑنا داس نے بادولیا کی جھڑنا داس کے اکاؤنٹ میں 27 ہزار روپے واپس جمع کروا دیے، جس کے بعد معاملہ حل ہو گیا۔
سسٹم پر اٹھتے سوالات
اگرچہ مالی معاملہ حل ہو چکا ہے، لیکن اس واقعے نے سی ایس پی کے بائیو میٹرک سسٹم، ڈیٹا بیس کی سیکیورٹی اور مرکزی شناختی ادارے کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آخر دو مختلف افراد کو ایک ہی نمبر کیسے الاٹ ہوا اور بائیو میٹرک اسکین کے باوجود یہ غلطی کیسے سرزد ہوئی۔
یونیک آئیڈنٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا کے قواعد کے مطابق ہر شہری کا شناختی نمبر 'یونیک' یعنی یکتا ہوتا ہے اور دو افراد کے نمبر ایک جیسے ہونا ممکن نہیں۔ تاہم، مغربی بنگال کے ضلع پوربو ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments