سرجری کے بعد مریض کو ہومیوپیتھک دوائیں دی جائیں گی! کولکتہ کے ہسپتال میں ایسی سروس کیوں؟
ایک او ٹی میں دو طبی طریقے۔ یقین نہ ہو تو دوبارہ پڑھیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہومیوپیتھی (این آئی ایچ) میں نیا جدید ماڈیولر آپریشن تھیٹر کھل گیا ہے۔ وہاں سرجری ایلوپیتھک ڈاکٹرز کریں گے۔ سرجری کے بعد مریض کو ہومیوپیتھک دوائیں دی جائیں گی، جو تحقیق کا ایک نیا دروازہ کھولے گا۔
روزانہ ہزاروں افراد سولٹ لیک کے این آئی ایچ کی او پی ڈی میں آتے ہیں۔ کسی مریض کو ایسی بیماری ہے جس میں سرجری کی ضرورت ہے، تو این آئی ایچ کے ڈائریکٹر پرلے شرما نے بتایا کہ صرف ہومیوپیتھک دوائیوں پر انحصار نہ کرتے ہوئے ضروری 'سرجیکل پروسیجر' کیا جائے گا۔ اس کے بعد 'پوسٹ آپریٹو مینجمنٹ' میں ہومیوپیتھک دوائیں دی جائیں گی۔ اس کے درد، بحالی اور زخم کی شفا یابی کی رفتار پر کلینیکل ریسرچ کے ذریعے دیکھا جائے گا کہ ہومیوپیتھی بہتر کام کر رہی ہے یا نہیں۔
ڈائریکٹر پرلے شرما نے بتایا کہ این آئی ایچ میں انڈر گریجویٹ کورس چلتا ہے جس کا نام بیچلر آف ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سرجری ہے۔ نام میں ہی سرجری موجود ہے۔ نئے ماڈیولر آپریشن تھیٹر میں طلبائ کو سرجری کے دائرہ کار اور حدود سکھائی جائیں گی۔ کس بیماری میں سرجری کی ضرورت ہے اور کس میں دوائیں کافی ہیں، یہ تفریق سکھائی جائے گی۔ جو مریض باقاعدگی سے این آئی ایچ کی او پی ڈی میں آتا ہے، اسے سرجری کی ضرورت ہونے پر دوسری جگہ ریفر نہیں کیا جائے گا بلکہ این آئی ایچ اس کا 'مکمل' علاج کرے گا۔ اینستھیٹسٹ، سرجن اور کارڈیالوجسٹ کا کردار ایلوپیتھک ڈاکٹرز ادا کریں گے۔ سرجری کے بعد کیا دوائی دی جائے گی؟ پرلے شرما نے بتایا کہ اس صورت میں ہومیوپیتھک دوائیں دی جائیں گی، کیونکہ ایلوپیتھک دوائیوں کا ڈرگ لوڈ زیادہ ہوتا ہے۔
یہ ڈرگ لوڈ کیا ہے؟ کسی دوائی کی مخصوص خوراک میں کتنا فعال فارماسیوٹیکل جزو ہے، یہی ڈرگ لوڈ ہے۔ ہومیوپیتھک دوائیوں کا ڈرگ لوڈ نسبتاً کم ہوتا ہے، کیونکہ ہومیوپیتھی کی بہت سی دوائیوں کے بنیادی اجزائ کو بار بار مائع میں ملا کر پتلا کیا جاتا ہے۔ اس لیے ایلوپیتھی کی نسبت اس میں ڈرگ لوڈ کم ہوتا ہے۔ سرجری کے بعد مریض کے علاج میں ہومیوپیتھک دوائیوں کے استعمال سے اضافی فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں، اس کا سائنسی طور پر جائزہ لینے کا موقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہومیوپیتھی نے پیدا کیا ہے۔
سرجری کے بعد مریض کو ہومیوپیتھک دوائیں دی جائیں گی! کولکتہ کے ہسپتال میں ایسی سروس کیوں؟...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments