Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

گیتانجلی ایکسپریس میں مریض کی موت، 12 گھنٹے تک ٹرین میں پڑی رہی لاش

Admin
By Admin
Oct 26, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

گیتانجلی ایکسپریس میں مریض کی موت، 12 گھنٹے تک ٹرین میں پڑی رہی لاش
گیتانجلی ایکسپریس میں مریض کی موت، 12 گھنٹے تک ٹرین میں پڑی رہی لاش — October 26, 2026
گیتانجلی ایکسپریس میں مریض کی موت، 12 گھنٹے تک ٹرین میں پڑی رہی لاش
ممبئی سے علاج کروا کر گھر واپس لوٹتے وقت بھاٹ پاڑہ کے ایک کینسر مریض کی ٹرین میں ہی موت ہو گئی۔ الزام ہے کہ ریلوے ملازمین کو اطلاع دینے کے باوجود تقریباً 12 گھنٹے تک لاش ٹرین کے ڈبے میں پڑی رہی۔ ہفتے کے روز ممبئی سے ہاوڑہ جانے والی گیتانجلی ایکسپریس (12859) میں پیش آنے والے اس واقعے سے ہلچل مچ گئی ہے۔ لاش کے ساتھ طویل سفر کے دوران خوف اور پریشانی جھیلنے کے بعد بالآخر ہفتے کی رات جھارکھنڈ کے جمشیدپور میں واقع ٹاٹا نگر جنکشن پر لاش کو ٹرین سے اتارا گیا۔
متوفی مسافر کا نام ونود پاسوان (45) تھا۔ شمالی 24 پرگنہ کے بھاٹ پاڑہ کے رہنے والے ونود ممبئی کے ٹاٹا میموریل اسپتال میں کینسر کا علاج کروانے کے بعد گیتانجلی ایکسپریس کے ایم-2 ڈبے میں گھر واپس آ رہے تھے۔ ٹرین اپنے مقررہ وقت سے تقریباً 12 گھنٹے تاخیر سے چل رہی تھی۔ ساتھی مسافروں کا دعویٰ ہے کہ ہفتے کی صبح ٹرین میں ہی ونود کی موت ہو گئی تھی۔ صبح تقریباً 8 بجے ٹکٹ چیکر (ٹی ٹی ای) کو اس بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کو بلا کر معائنہ کروایا جائے گا اور موت کی تصدیق کی جائے گی۔
لیکن مسافروں کا الزام ہے کہ گھنٹوں گزرنے کے باوجود ریلوے کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مجبور ہو کر انہوں نے لاش کو جلد از جلد ٹرین سے اتارنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو شام تقریباً 7 بجے ایک مسافر نے ریلوے کے ’ریل مدد‘ پورٹل پر شکایت درج کرائی اور سوشل میڈیا پر ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو کو ٹیگ کرکے اس واقعے کی اطلاع دی۔ بالآخر رات تقریباً ساڑھے 8 بجے ٹرین کے ٹاٹا نگر اسٹیشن پہنچنے پر لاش کو اتارا گیا۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رہنما کنال شڑنگی نے بھی اس پورے واقعے کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ریلوے کے وزیر کو ٹیگ کرکے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔
تاہم چکرادھرپور ریلوے ڈویڑن کے سینئر ڈویڑنل کمرشل منیجر (سینئر ڈی سی ایم) آدتیہ چودھری نے مسافروں کے اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہفتے کی شام 7 بج کر 45 منٹ پر ریلوے حکام کو اطلاع ملی تھی کہ 12859 گیتانجلی ایکسپریس کے ایم-2 ڈبے میں ایک مسافر بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہے۔ ٹرین کے ٹاٹا نگر پہنچنے کے بعد اسٹیشن پر موجود ڈاکٹر نے مسافر کا معائنہ کیا اور اسے مردہ قرار دے دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم ریلوے ملازمین کو اطلاع ٹھیک کس وقت دی گئی تھی اور انہوں نے کیا کارروائی کی، ان دونوں متضاد بیانات کی وجہ سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
لاش کے گھنٹوں تک ٹرین میں پڑے رہنے کے علاوہ مسافروں نے ٹرین کی مجموعی خدمات پر بھی شدید ناراضگی ظاہر کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ تقریباً 12 گھنٹے تاخیر سے چلنے والی ٹرین کے ڈبوں کی دیکھ بھال انتہائی خراب تھی اور بیت الخلا کی حالت بھی نہایت ابتر تھی۔ طویل سفر کے دوران کھانے پینے کی اشیا اور پینے کے صاف پانی کی مناسب فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مسافروں کا دعویٰ ہے کہ ٹرین میں کھانا دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں مجبوراً غیر مجاز خوانچہ فروشوں سے مہنگے داموں کھانا خرید کر کھانا پڑا۔

گیتانجلی ایکسپریس میں مریض کی موت، 12 گھنٹے تک ٹرین میں پڑی رہی لاش...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn