شوبھیندو ادھیکاری نے سی پی ایم کی کتابوں کے اسٹالوں پر توڑ پھوڑ کا دفاع کیا، ’ملک مخالف اور سناتن مخالف تحریروں‘ پر برہمی کا اظہار
وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے اتوار کے روز درگا پوجا کے دوران بائیں بازو کے کتابوں کے اسٹالوں پر حملوں کا دفاع کیا اور بائیں بازو، ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اور ترنمول کی ’ذہنیت‘ کے خلاف سخت نازیبا زبان استعمال کی۔ انہوں نے ان گروہوں کو ’کاکروچ، کھٹمل، ٹکڑے ٹکڑے گینگ، دماغی نکسل‘ اور کورونا وائرس سے تشبیہ دی، جبکہ ترنمول کا موازنہ بنیاد پرست اسلام پسند گروپ ’جماعتیوں‘ سے کیا۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے کتابوں کے اسٹالوں پر حملوں کی کھلے عام حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب چند روز قبل ان کے اپنے وزیر خزانہ سواپن داس گپتا، ریاست میں ان کی پارٹی کے سربراہ سامک بھٹاچاریہ اور آر ایس ایس کے جسنو باسو نے ان حملوں کی بربریت کی مذمت کی تھی۔
شوبھیندو نے اعلان کیا، ”ہم مغربی بنگال کی سرزمین پر کسی کو بھی ملک مخالف یا سناتن مخالف تحریریں شائع کرنے یا کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔“
مبینہ طور پر سنگھ پریوار سے وابستہ شرپسندوں نے درگا پوجا کے دوران بائیں بازو سے منسلک کتابوں کے اسٹالوں میں توڑ پھوڑ کی۔ یہ واقعات باراسات، ناگربازار اور جوراباغان سے لے کر کولکاتا کے جادَوپور، اینٹلی اور کاسبہ سمیت بنگال کے دیگر علاقوں میں پیش آئے۔
شوبھیندو نے دعویٰ کیا کہ ’مانوش‘ یعنی عوام نے ازخود ان اسٹالوں کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا، ”ان لوگوں نے اسٹال لگا کر جو کچھ کرنے کی کوشش کی، عوام نے اسے روک دیا۔“
اپنے حملے کو مزید وسعت دیتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن کے نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیمی نظام میں تبدیلی کی وکالت کی۔
انہوں نے کہا، ”طلبہ کو قوم پرست بنانے کے لیے ہر سال ثقافتی سرگرمیوں کے طور پر کم از کم تین دن مباحثے، کوئز مقابلے اور فی البدیہہ تقریری مقابلے منعقد کیے جانے چاہئیں۔“
شوبھیندو نے مزید کہا، ”تبھی ہمیں ان کاکروچوں، کھٹملوں، دماغی نکسلوں، ٹکڑے ٹکڑے گینگ، ’کشمیر مانگے آزادی‘ کے حامیوں اور کورونا وائرس جیسا رویہ اختیار کرنے والوں کو ختم کرنے کے لیے کیڑے مار اسپرے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
انہوں نے بائیں بازو اور ترنمول، دونوں کی حکومتوں پر بنگال کی ’تہذیبی وراثت‘ کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا، ”34 سال تک ملحد کمیونسٹوں اور 15 سال تک جماعتیوں نے مغربی بنگال کے عوام کی روایات اور ثقافت کو ختم کر دیا ہے۔“انہوں نے اسکولوں کی درسی کتابوں میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا، ”اگلے تعلیمی سال سے آپ کو بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں گی۔“
ان کے بیانات پر سیاسی حلقوں کی جانب سے فوری مذمت سامنے آئی۔سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سوجن چکرورتی نے بائیں بازو کے کتابوں کے اسٹالوں کے خلاف ’عوامی مزاحمت‘ کے دعوے کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان حملوں نے خود وزیر اعلیٰ کی کابینہ کے ارکان اور ان کی نظریاتی سرپرست تنظیم کو بھی شرمندہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ شرم سے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عوام نے مزاحمت کی؟ عوام نے واقعی مزاحمت کی۔ انہوں نے اسٹالوں کو مسمار کرنے اور کتابیں اٹھا کر لے جانے کے لیے لائے گئے بلڈوزروں اور میونسپلٹی کے کچرا اٹھانے والے ٹرکوں کی مخالفت کی۔“جادَوپور میں سی پی ایم کے ایک کتابی اسٹال کو بلڈوزر سے مسمار کرنے کی پولیس کی کوشش بائیں بازو کے کارکنوں، کتابوں سے محبت کرنے والوں اور عام شہریوں کے رات بھر جاری پہرے کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھی۔چکرورتی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ شوبھیندو خود ماضی میں ان میں سے بعض سیاسی گروہوں کا حصہ رہ چکے ہیں جنہیں اب وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ”وہ آخر ہیں کون؟ وہ کانگریس سے ترنمول تک، ہر جگہ جا چکے ہیں اور اب بی جے پی میں ہیں۔“
ممتا بنرجی کے وفادار اور بیلی گھاٹا کے رکن اسمبلی کنال گھوش نے سوال اٹھایا کہ کوئی برسرِ اقتدار وزیر اعلیٰ کھلے عام قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کی کارروائی کی حمایت کیسے کر سکتا ہے۔
گھوش نے کہا، ”کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جسے کوئی چیز پسند نہ آئے، وہ اس پر حملہ کر دے، پولیس خاموش تماشائی بنی رہے اور وزیر اعلیٰ کی کرسی سے اس کارروائی کو جائز قرار دے دیا جائے؟“
انہوں نے مزید کہا، ”سی پی ایم کے ساتھ ہمارے شدید اختلافات ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سی پی ایم کتابیں فروخت نہیں کر سکے گی؟ اس کے اسٹالوں پر حملے کیے جائیں گے؟ بنگال اور اس کی تکثیری روایات سے ناواقف اس ثقافت کو آخر کیسے جاری رہنے دیا جا سکتا ہے؟“
آر ایس ایس کے مشرقی زون کے تشہیر کے سربراہ جسنو باسو نے اس سے قبل کتابوں کے اسٹالوں پر چھاپوں اور حملوں کو ’اقتدار کے نشے میں چور لوگوں کی بزدلانہ حرکتیں‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔ تاہم، اتوار کے روز انہوں نے اپنے مو¿قف کو اخلاقی کے بجائے حکمتِ عملی کے زاویے سے پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے دراصل بائیں بازو کی شبیہ مضبوط ہو رہی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ”انگوٹھے جتنا چھوٹا کوئی شخص بی جے پی کی مخالفت کرنے آ گیا ہے۔ اسے بلاوجہ کھجور کے درخت جیسا بڑا دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔“ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ’بورو انگلا‘ کو ’مہیشاسور‘ بنا کر پیش کرنا دانش مندی ہے؟کانگریس کے سومیہ آئچ رائے نے کہا کہ شوبھیندو ’مایوسی کا شکار‘ ہیں۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن نے کہا، ”معزز وزیر اعلیٰ نے عوام سے روزانہ دو وقت کا کھانا، روزگار، رہائش، ذریعہ معاش، امن و قانون اور بدعنوانی سے پاک انتظامیہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان تمام کاموں میں انہیں 10 میں سے صفر نمبر ملے ہیں۔“انہوں نے مزید کہا، ”اسی لیے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کتابوں کے اسٹالوں کو مسمار کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ وہ خوف زدہ ہیں۔“آئچ رائے نے کہا، ”وہ آزاد خیال سوچ، کشادہ ذہنی، تنوع اور اختلافی آوازوں سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ فاشسٹوں کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک ہے۔“کتابوں کے اسٹالوں پر حملوں کے معاملے میں زعفرانی کیمپ کے اندر بظاہر موجود تضادات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”سچ کہوں تو اچھے پولیس والے اور اس سے بھی بدتر پولیس والے کا یہ پرانا ڈراما اب بوسیدہ ہو چکا ہے۔ ان تمام دھڑوں کا مو¿قف ایک ہی ہے: فاشزم۔“
شوبھیندو ادھیکاری نے سی پی ایم کی کتابوں کے اسٹالوں پر توڑ پھوڑ کا دفاع کیا، ’ملک مخالف اور سناتن مخالف تحریروں‘ پر برہمی کا اظہار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments