ہومیوپیتھی سے وائرل ٹانسلائٹس پر قابو، تحقیق کو گیم چینجر قرار دیا گیا!
وائرل ٹانسلائٹس سے اکثر بچے متاثر ہوتے ہیں۔ جدید طب میں اس کے لیے کوئی مخصوص دوا نہ ہونے کے باوجود، الزام ہے کہ بہت سے لوگ اس وائرس سے ہونے والی بیماری کا علاج اینٹی بایوٹکس سے کرتے ہیں۔ اس سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اینٹی بایوٹک کا کورس مکمل نہ کرنے کی وجہ سے بچوں میں اینٹی بایوٹک مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے۔ اب ہومیوپیتھی میں اس کے لیے ایک مخصوص دوا ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے استعمال سے صرف تین دن میں تقریباً 90 فیصد بچوں کے صحت یاب ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ دعویٰ کولکاتا کے ڈی این ڈے ہومیوپیتھی کالج کے محققین کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔
محققین کا دعویٰ ہے کہ بچوں میں شدید وائرل ٹانسلائٹس یا گلے کی سوزش کے علاج میں ہومیوپیتھی انتہائی مو¿ثر ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے نتائج بھی جلد سامنے آ سکتے ہیں۔ حال ہی میں ڈی این ڈے ہومیوپیتھک میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے محقق ڈاکٹر سوربھ ڈے کی قیادت میں کی گئی ایک بین الاقوامی معیار کی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق ’رینڈمائزڈ، ڈبل بلائنڈ، پلیسبو کنٹرولڈ ٹرائل‘ کے طریق? کار کے تحت مکمل کی گئی۔ تحقیق کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ اور وائرولوجیکل تجزیہ کولکاتا کے ’دی ہیریٹیج انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ میں کیا گیا۔
اس تحقیق میں 5 سے 15 سال کی عمر کے 78 بچوں کو شامل کیا گیا، جو شدید گلے کی سوزش، ٹانسلز میں سوجن اور نگلنے میں دشواری کا شکار تھے۔ وبائی امراض سے متعلق پروٹوکول کے مطابق ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کے ذریعے ہر بچے کے کووڈ-19 سے متاثر نہ ہونے کی تصدیق بھی کی گئی۔ اس کے بعد جدید آر ٹی-پی سی آر ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے لعاب کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ جسم میں ایڈینو وائرس، رائنو وائرس یا آر ایس وی جیسے وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد ہی اصل ٹرائل شروع کیا گیا۔ تحقیق میں غیر جانب داری اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے عالمی ادار? صحت اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی کلینیکل ٹرائل سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ ٹرائل میں استعمال ہونے والی دوائیں کولکاتا کے ایک معروف جی ایم پی سرٹیفائیڈ ادارے سے حاصل کی گئی تھیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق، عام پلیسبو علاج کے مقابلے میں ہومیوپیتھک دوا لینے والے بچے زیادہ تیزی سے صحت یاب ہوئے۔ علاج کے صرف تین دن بعد ہومیوپیتھک دوا لینے والے 88.5 فیصد بچوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جبکہ پلیسبو لینے والے بچوں میں یہ شرح صرف 38.5 فیصد تھی۔ علاج کے دوران بچوں کی انفرادی علامات کے مطابق دوائیں دی گئیں، تاہم ’ہیپر سلفر‘ نامی دوا سب سے زیادہ استعمال کی گئی اور محققین کے مطابق مجموعی طور پر یہ انتہائی مو¿ثر ثابت ہوئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ عام وائرس کے حملے کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بایوٹکس کا استعمال مناسب نہیں، کیونکہ یہ وائرس کے خلاف مو¿ثر نہیں ہوتیں اور جسم میں اینٹی بایوٹک مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے مائیکرو بایولوجسٹ ڈاکٹر شتادل داس نے کہا کہ یہ تحقیق وائرل ٹانسلائٹس کے علاج میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، بڑے پیمانے پر تحقیق کرکے اس کے لیے ایک مستقل طریق? علاج وضع کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ہومیوپیتھی سے وائرل ٹانسلائٹس پر قابو، تحقیق کو گیم چینجر قرار دیا گیا!...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments