رہائش سے لے کر سبزیوں تک میں عام لوگ ٹھگے جا رہے ہیں! وزیراعلیٰ کی سخت نگرانی کی وارننگ
ریاست میں کثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر مالی فراڈ ہو رہا ہے! جعلی اشتہارات دکھا کر فلیٹ بکنگ کے نام پر ایڈوانس رقم لی جا رہی ہے، لیکن وہ نہیں مل رہا۔ عام لوگ بے سہارا ہو رہے ہیں! اس کے علاوہ، بازار میں سبزیاں خریدنے سے لے کر آن لائن کھانا خریدنے کے نام پر بھی لوگ فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔ سابقہ حکومتوں نے کنزیومر پروٹیکشن (صارفین کے تحفظ) محکمے کو اہمیت نہیں دی۔ اس دعوے کے ساتھ وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا پیغام دیا۔
پیر سے کنزیومر پروٹیکشن ویک (صارفین کے تحفظ کا ہفتہ) شروع ہوا۔ ہاگ مارکیٹ چوک پر اس پروگرام کا افتتاح وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کیا۔ وہیں انہوں نے واضح کہا کہ فلیٹ کے نام پر جعلسازی، سبزیوں اور مچھلیوں میں نقصان دہ رنگوں کا استعمال، اور اشیاءکی پیمائش میں دھاندلی۔ ان بدعنوانیوں کو حکومت کسی بھی طرح برداشت نہیں کرے گی۔ حکومت زیرو ٹولرنس (صفر رواداری) کی پالیسی پر چلے گی۔
پروگرام کے اسٹیج سے وزیراعلیٰ نے سابقہ حکومتوں کے ادوار میں صارفین کے تحفظ کے محکمے کو عملاً بیکار کرنے پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا، ”2006 کے بعد سے جب سے میں ایم ایل اے بنا ہوں، اس کے بعد سابق وزیراعلیٰ بدھ دیو بھٹاچاریہ یا کسی اور کو صارفین کے تحفظ کے محکمے کے پروگراموں میں نہیں دیکھا۔ یہ محکمہ انتہائی نظرانداز کیا گیا۔ لوگوں کی روزمرہ زندگی کا اس محکمے سے براہ راست تعلق ہے۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ فلیٹ سے متعلق فراڈ کی شکایات انہیں ’جناتا دربار‘ (عوامی عدالت) پروگرام میں موصول ہوئی ہیں۔ شوبھیندو نے بتایا کہ آن لائن کھانا خریدنے کے نام پر بھی فراڈ ہو رہا ہے۔ نیو ٹاو¿ن کے ایک گھر سے اس شکایت پر 120 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سبزیوں اور مچھلیوں میں نقصان دہ رنگ ملانے، تولے میں دھاندلی سمیت متعدد بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جائیں گے۔ اس مہم کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔ ضلع بھر میں باو¿ل گانے، لیفلیٹس اور سوشل میڈیا پر تشہیر کے ذریعے آگاہی بڑھائی جائے گی۔
رہائش سے لے کر سبزیوں تک میں عام لوگ ٹھگے جا رہے ہیں! وزیراعلیٰ کی سخت نگرانی کی وارننگ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments