شمالی بنگال میں ناگہانی واقعات سے نبٹنے کےلئے حکومت تیار
نیپال کے مہلک لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے واقعے نے اب شمالی بنگال کے پہاڑی علاقوں کے حوالے سے ریاستی حکومت کی تشویش بڑھا دی ہے۔ پڑوسی ملک میں ہونے والی اس تباہی کی تکرار دارجیلنگ سمیت پہاڑی علاقوں میں نہ ہو، اس لیے حکومت قبل از وقت احتیاطی اقدامات پر زور دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیپال کے واقعے کے فوراً بعد ہی وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری اور سیاحت کے وزیر شنکر گھوش کے درمیان پہاڑوں اور سیاحوں کی حفاظت پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پہاڑوں کو مزید محفوظ بنانے کے طریقوں پر روڈ میپ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقی کے نام پر پہاڑوں کی فطری ساخت کو تباہ کر کے آفت کو دعوت نہیں دی جا سکتی۔ مقصد صرف ایک ہے – آفت کے آنے کا انتظار کیے بغیر پہاڑوں کو پہلے سے تیار کرنا۔ ذرائع کے مطابق نئے منصوبے میں خطرناک علاقوں کی نشاندہی، تعمیرات پر سخت نگرانی، نکاسی آب کے نظام کا جائزہ، اور مقامی باشندوں اور سیاحوں کی حفاظت پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ترقی کے ساتھ ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہوئے پہاڑوں کو محفوظ بنانا اب حکومت کا ہدف ہے۔ خاص طور پر بارش کے موسم میں پہاڑوں پر جہاں لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کا کٹاو¿ یا پانی جمع ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، ان علاقوں کی فہرست تیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ سیاحتی مراکز میں آفت کے وقت سیاحوں کو تیزی سے نکالنے کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
حکومت کی نظر میں غیر منصوبہ بند تعمیرات بھی آئی ہیں۔ الزام ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں ترقی کے نام پر پہاڑوں کی جغرافیائی ساخت اور ماحول کا خیال کیے بغیر ایک کے بعد ایک تعمیرات کی اجازتیں دی گئیں۔ اس کے نتیجے میں دارجیلنگ جیسے مقبول سیاحتی مرکز بتدریج گنجان آباد ہوتا جا رہا ہے۔ پہاڑوں کے ایک بی جے پی لیڈر کا الزام ہے کہ تعمیرات پر عملاً کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ سیاسی حلقوں کے مطابق نیپال کا واقعہ درحقیقت شمالی بنگال کے لیے ’ویک اپ کال‘ ہے۔ پہاڑوں پر سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع جتنی ضروری ہے، اسی طرح ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
شمالی بنگال میں ناگہانی واقعات سے نبٹنے کےلئے حکومت تیار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments