Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

مہالیا کے موقع پر بنگال میں 112 ایمرجنسی سروس شروع، ’پولیس پر ہاتھ اٹھایا تو انجام برا ہوگا

Admin
By Admin
Oct 10, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

مہالیا کے موقع پر بنگال میں 112 ایمرجنسی سروس شروع، ’پولیس پر ہاتھ اٹھایا تو انجام برا ہوگا
مہالیا کے موقع پر بنگال میں 112 ایمرجنسی سروس شروع، ’پولیس پر ہاتھ اٹھایا تو انجام برا ہوگا — October 10, 2026
مہالیا کے موقع پر بنگال میں 112 ایمرجنسی سروس شروع، ’پولیس پر ہاتھ اٹھایا تو انجام برا ہوگا
صرف ایک فون کرنے پر پولیس موقع پر پہنچ جائے گی۔ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری خدمات فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن تیار رہے گی۔ مہالیا کے موقع پر مغربی بنگال میں ریاستی سطح پر 112 ایمرجنسی سروس شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کے بیڑے میں 450 گاڑیاں شامل کی گئی ہیں۔ ہر تھانے کو ایک ایک گاڑی اور موٹر سائیکل فراہم کی گئی ہے۔ پانچ ماہ میں انتظامی نظام کی پوری شکل بدلنے کے لیے سرگرم پولیس وزیر نے کہا کہ پولیس پر ہاتھ اٹھانے والوں کا انجام برا ہوگا۔ شوبھیندو ادھیکاری نے ایک بار پھر پارک اسٹریٹ واقعے کی یاد دلاتے ہوئے انتباہ دیا۔
گزشتہ حکومت کے دور میں انتظامی خدمات کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے پولیس وزیر نے کہا، ”پہلے 100 نمبر پر فون کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔ پولیس محکمہ کا وزیر بننے کے بعد گزشتہ پانچ ماہ سے میں نے پوری ریاست کے پولیس نظام کا اندر تک جا کر جائزہ لیا ہے۔ میں بیرک پور پولیس کمشنریٹ گیا۔ تاراطلا میں جن لوگوں نے انسانی جانیں بچائی تھیں، انہیں ’زندگی بچانے والے اعزاز‘ سے نوازا۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کو اعزاز دینے کے لیے منعقدہ شکریہ ادا کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔ پولیس کے تمام کنٹرول رومز کا دورہ کیا۔ پوری ریاست میں لائیو ٹریفک سسٹم شروع کرنے کا کام کیا۔ ہِٹکو اور این کے ڈی اے سے درخواست کرکے بھوانی بھون میں پولیس اہلکاروں کو رین کوٹ فراہم کیے۔“
ترنمول حکومت کے دور میں پولیس کو ’ڈھال اور تلوار سے محروم نِدھی رام سردار‘ بنا کر رکھ دیا گیا تھا، یہ طنز کرتے ہوئے شوبھیندو نے کہا، ”فی الحال ہر ایک لاکھ آبادی پر 155 پولیس اہلکار ہیں۔ یوگی کی ریاست میں ہر ایک لاکھ افراد پر 200 پولیس اہلکار ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور میں ہماری ریاست میں یہ تعداد ہر ایک لاکھ افراد پر 105 تھی۔ افرادی قوت نہیں ہوگی اور شہری نظام مضبوط نہیں ہوگا تو آپ لڑائی کیسے کریں گے؟“
اس کے بعد شوبھیندو نے پارک اسٹریٹ واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ”پارک اسٹریٹ میں پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں پر پتھر پھینکے گئے تھے۔ میں صحافیوں کے سامنے کہہ کر آیا تھا کہ اگر کسی نے پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھایا تو اس کا انجام برا ہوگا۔ آسنسول میں پولیس چوکی توڑ دی گئی تھی، ہم نے اس کا معاوضہ وصول کیا۔“
ریاست میں پولیس کی بھرتی کے معاملے پر بھی پولیس وزیر نے امید افزا خبر سنائی۔ شوبھیندو نے کہا، ”او بی سی کے معاملے میں الجھاو¿ کی وجہ سے پولیس کی بھرتی رکی ہوئی تھی۔ میں نے اسمبلی میں بلا کر قانون میں ترمیم کی۔ ریاستی حکومت نے جو مقدمہ دائر کیا تھا، ہم اس سے باہر نکل آئے۔ قانونی لڑائی جیتنے کے بعد پولیس ریکروٹمنٹ بورڈ کے چیئرمین نیرو?ج سنگھ نے شام سات بجے منتخب امیدواروں کی فہرست جاری کر دی۔ پوجا سے پہلے 11 ہزار سے زیادہ نئے کانسٹیبلوں کی تقرری ہونے والی ہے۔“
پولیس وزیر نے بتایا کہ آئندہ جمعہ کو وہ خود اپنے ہاتھوں سے کانسٹیبلوں کو تقرری نامے سونپیں گے۔ ہر تھانے کو ایک ایک گاڑی اور موٹر سائیکل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 1500 ڈرائیور بھی بھرتی کیے گئے ہیں۔
گزشتہ حکومت کے دور میں انتظامی خدمات کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے پولیس وزیر نے ایک بار پھر کہا، ”پہلے 100 نمبر پر فون کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔ پولیس محکمہ کا وزیر بننے کے بعد گزشتہ پانچ ماہ سے میں نے پوری ریاست کے پولیس نظام کا جائزہ لیا ہے۔ میں بیرک پور پولیس کمشنریٹ گیا۔ تاراطلا میں جن لوگوں نے انسانی جانیں بچائی تھیں، انہیں ’زندگی بچانے والے اعزاز‘ سے نوازا۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کو اعزاز دینے کے لیے منعقدہ شکریہ ادا کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔ پولیس کے تمام کنٹرول رومز کا دورہ کیا۔ پوری ریاست میں لائیو ٹریفک سسٹم شروع کرنے کا کام کیا۔ ہِٹکو اور این کے ڈی اے سے درخواست کرکے بھوانی بھون میں پولیس اہلکاروں کو رین کوٹ فراہم کیے۔“
پولیس وزیر شوبھیندو نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومت نے پولیس کے ہاتھ پاو¿ں باندھ کر رکھے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیربھوم کے پتھر مافیا ٹولو منڈل کا ذکر کرتے ہوئے پولیس کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ”پہلے میں بات بات پر کہتا تھا کہ ای ڈی، سی بی آئی اور این آئی اے کو بلانا چاہیے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ ہماری پولیس میں صلاحیت ہے۔ بیربھوم میں ایس ٹی ایف یا سی آئی ڈی کو لگانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ بیربھوم پولیس نے ایک پتھر مافیا کی جائیداد اور گاڑیوں سمیت 220 کروڑ روپے کی املاک برآمد کی تھیں۔“
وزیر اعلیٰ نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا، ”آر جی کر اور باروئی پور جیسے واقعات اب دوبارہ نہیں ہوں گے۔“ انہوں نے ممنوعہ کف سیرپ کے کاروبار کو برداشت نہ کرنے کی وارننگ بھی ایک بار پھر دی۔
مجموعی طور پر ریاست کے پولیس اور انتظامی نظام کو وسعت دینے اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے پولیس وزیر نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کے بعد بنگال میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی سمت میں قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔

مہالیا کے موقع پر بنگال میں 112 ایمرجنسی سروس شروع، ’پولیس پر ہاتھ اٹھایا تو انجام برا ہوگا...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn