مہوا موئترا کے خلاف منوج کا 10 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس
ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف ریاست کے چیف سکریٹری منوج اگروال نے 10 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ مہوا نے سابق چیف الیکٹورل آفیسر کو ’ووٹ چور‘ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے ان پر ’ہر طرح کے غیر قانونی کام‘ کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔ اس کے علاوہ نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہوا نے ’انڈیا اگلی بار تمہارے لیے آ رہا ہے‘ اور ’تم بچ نہیں پاو¿ گے‘ جیسے تبصرے بھی کیے۔ الزام ہے کہ انہوں نے لاکھوں جائز بنگالی ووٹروں کو غیر قانونی طور پر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے بھی چیف سکریٹری کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
چیف سکریٹری منوج اگروال کی جانب سے وکیل روچیرا منّا نے مہوا موئترا کو خط بھیجا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر دونوں پوسٹ حذف کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی الزامات غیر مشروط طور پر واپس لینے، عوامی طور پر معافی مانگنے اور مستقبل میں اس طرح کے تبصرے نہ کرنے کا تحریری عہد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں دیوانی اور فوجداری قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔
الزام ہے کہ چیف سکریٹری منوج کمار اگروال کو ووٹروں کو غیر قانونی طور پر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نوٹس میں منوج کا کہنا ہے کہ ان پوسٹوں کے ذریعے ان کی ذاتی دیانت داری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور سرکاری فرائض کی ادائیگی میں غیر جانب داری پر براہِ راست سوال اٹھائے گئے ہیں۔
منوج کا دعویٰ ہے کہ وہ کبھی بھی ووٹوں کی چوری، ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری یا غیر قانونی طور پر کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کے عمل میں ملوث نہیں رہے۔ ان کے مطابق، اس وقت کے چیف الیکٹورل آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے الیکشن کمیشن کی ہدایات اور مقررہ قانونی دائر? کار کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دی تھیں۔
مہوا موئترا کے خلاف منوج کا 10 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments