Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر درگا پوجا کی اجازت نہیں! ”یہ مفادِ عامہ کا مقدمہ نہیں ہو سکتا“، چیف جسٹس گھوگے

Admin
By Admin
Sep 25, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر درگا پوجا کی اجازت نہیں! ”یہ مفادِ عامہ کا مقدمہ نہیں ہو سکتا“، چیف جسٹس گھوگے
کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر درگا پوجا کی اجازت نہیں! ”یہ مفادِ عامہ کا مقدمہ نہیں ہو سکتا“، چیف جسٹس گھوگے — September 25, 2026
کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر درگا پوجا کی اجازت نہیں! ”یہ مفادِ عامہ کا مقدمہ نہیں ہو سکتا“، چیف جسٹس گھوگے
کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر درگا پوجا کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس سلسلے میں مفادِ عامہ کی عرضی بھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رویندر وی گھوگے اور جسٹس اوم نارائن رائے کی ڈویڑن بینچ نے خارج کر دی۔
’شاردا سادھنا‘ کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بار ایسوسی ایشن نے درخواست کی تھی۔ اس کے لیے ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت کی چھت کا انتخاب کیا گیا تھا۔ اس معاملے کو لے کر مفادِ عامہ کی عرضی بھی دائر کی گئی تھی۔ جمعہ کو چیف جسٹس رویندر وی گھوگے اور جسٹس اوم نارائن رائے کی ڈویڑن بینچ نے اس عرضی کو خارج کر دیا۔
وکیل سنجے گھوش نے یہ مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے آئین کے مطابق مذہبی غیر جانب داری برقرار رکھتے ہوئے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا یکساں حق دیا گیا ہے۔ لیکن کلکتہ ہائی کورٹ میں اس غیر جانب داری کو برقرار نہیں رکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ ایک مخصوص مذہبی برادری کو ہر جمعہ کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لیے آئینی اصولوں کے مطابق کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر ’بھارت ماتا مندر‘ بنانے اور درگا پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ کی مرکزی عمارت سے متصل ایک عمارت کی چھت پر نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس کے قریب ایک مسجد بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ یہ کبھی بھی مفادِ عامہ کی عرضی کا موضوع نہیں ہو سکتا۔ اسے کسی ایک طبقے کے مفاد سے متعلق مقدمہ کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی مفادِ عامہ کی بیشتر عرضیوں میں دیکھا جا رہا ہے کہ یا تو وہ ذاتی مفاد کے لیے ہوتی ہیں یا پھر تشہیر حاصل کرنے کی حکمتِ عملی کے طور پر دائر کی جاتی ہیں۔ لہٰذا وہ اس درخواست کو مفادِ عامہ کی عرضی کے طور پر ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ اسی لیے یہ درخواست خارج کی جاتی ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کی چھت پر درگا پوجا کی اجازت نہیں! ”یہ مفادِ عامہ کا مقدمہ نہیں ہو سکتا“، چیف جسٹس گھوگے...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn