ایک ہی عمارت میں متعدد ہوٹل، تنگ داخلی راستہ، نیو مارکیٹ آگ واقعہ کے بعد اٹھ رہے ہیںمختلف سوالات
ایک کثیر المنزلہ عمارت میں متعدد ہوٹل۔ کہنا چاہیے کہ ہر منزل پر ایک ہوٹل یا گیسٹ ہاو¿س۔ تنگ و تاریک کمرے۔ اس عمارت کی تیسری منزل کے ایک ہوٹل میں پہلے آگ لگی۔ تاہم آگ کی شدت زیادہ نہیں تھی۔ لیکن دھواں بتدریج بڑھتا گیا۔ پورا ہوٹل دھوئیں سے بھر گیا۔ رہائشیوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس راستے سے باہر نکلیں۔
نیو مارکیٹ کے مرزا غالیب سٹریٹ کے اس ہوٹل میں آگ کے واقعے کے بعد مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ رہائشیوں کے ایک حصے کا دعویٰ ہے کہ آگ لگنے کے بعد بھی ہوٹل انتظامیہ کا کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ آگ بجھانے کا کوئی نظام بھی نہیں تھا۔ آگ لگنے کے ساتھ ہی رہائشی ہوٹل چھوڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن کس راستے سے نکلیں، دھوئیں کی وجہ سے اس کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ ایک رہائشی کا کہنا تھا، "فائر بریگیڈ والے نہ آتے تو شاید ہم بھی نہ بچ پاتے!"
مقامی ذرائع کے مطابق، عام طور پر دوسری ریاستوں یا بیرونی ممالک سے علاج کے لیے آنے والے اس عمارت کے ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں۔ منگل کی رات اس ہوٹل میں جب سب سو رہے تھے تو آگ لگی۔ بہت سے رہائشی ہوٹل کے کمروں میں پھنس گئے۔ اس کثیر المنزلہ عمارت میں داخل ہونے اور نکلنے کا راستہ ایک ہی تھا۔ وہ بھی تنگ۔ رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ ہوٹل میں کوئی ہنگامی راستہ نہیں تھا۔ کچھ لوگ بیت الخلا میں گھس گئے۔ وہاں کی کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔ فائر بریگیڈ پہنچ کر اس عمارت میں موجود رہائشیوں کو بچایا۔
سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آگ بجھانے کے مناسب نظام کی عدم موجودگی کے باوجود ہوٹل کیسے چل رہے تھے؟ کیا مالکان کے پاس ہوٹل چلانے کے لیے فائر بریگیڈ سے اجازت نامہ تھا؟ تنگ و تاریک کمروں میں حفاظت کہاں تھی؟ رہائشیوں میں دو دوست بھی تھے۔ منگل کی رات ہی رام پور ہاٹ سے آئے تھے۔ ان میں سے عزاز احمد نامی ایک شخص نے بتایا کہ وہ اس عمارت کی چوتھی منزل پر دوسرے گیسٹ ہاو¿س میں تھے۔ ۱۲:۳۰ بجے کھانا کھا کر سونے گئے۔ رات ۲بجے دو خواتین کے چیخنے کی آواز سے ان کی نیند ٹوٹی۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو کمرے میں دھواں داخل ہو گیا۔ ان کے مطابق، "کمرے سے باہر جو برآمدہ ہے وہ بہت تنگ ہے۔ وہ بھی دھوئیں سے بھر گیا تھا۔
Source: Admin
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
11 months ago
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
11 months ago
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی
5 months ago
الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کو ہٹا دیا
5 months ago
اس بار بھی بنگال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں! ممتا بنرجی کی پھر سے ہو گی جیت
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments