مریضوں کی تکلیف ختم کرنے کے لیے صحت محکمے کی جانب سے متعدد رہنما خطوط جاری
شدید بیمار مریض آتے ہی اسے کہیں اور ریفر کرنے کی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کریٹیکل کیئر یونٹس کے انتظام کا جائزہ لے کر صحت محکمے نے ہنگامی رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ صحت محکمے کا حکم ہے: "شدید بیمار مریض آنے پر پہلے اسے مستحکم (اسٹیبلائز) کیا جائے، اس کے بعد اسے کہیں اور ریفر کیا جا سکتا ہے۔" تاہم من مانی نہیں، مریض کو ریفر کرنے سے پہلے ہسپتال کے ڈپٹی یا اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کو اس کی اطلاع دینی ہوگی۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پھر صحت بھون کے انٹیگریٹڈ کنٹرول روم سے رابطہ کریں گے۔ جہاں ریفر کیا جا رہا ہے وہاں کریٹیکل کیئر بیڈ دستیاب ہے یا نہیں، اس کی تصدیق کرنی ہوگی۔ تاہم اگر مریض کے اہل خانہ خود اسے کہیں اور لے جانا چاہیں تو اس صورت میں استثناءہوگا۔
کسی ہسپتال میں کتنے کریٹیکل کیئر یونٹس ہیں؟ اور وہ کتنے کارآمد ہیں، اس کی تمام معلومات کریٹیکل کیئر مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (سی سی ایم آئی ایس) پر اپ لوڈ کرنا ہوتی ہے۔ حال ہی میں صحت محکمے نے اس 'سی سی ایم آئی ایس' پورٹل کا جائزہ لیا۔ گزشتہ 13 اگست کو بنگال کے ہر سرکاری ہسپتال کے کریٹیکل کیئر یونٹس پر ریاستی سطح کا اجلاس ہوا۔ اس میں دیکھا گیا کہ متعدد صحت مراکز میں کریٹیکل کیئر یونٹس کا ڈھانچہ تو بنا ہے لیکن استعمال نہیں ہوا۔ اس فہرست میں شامل ہیں: بیرپاڑا اسٹیٹ جنرل، فریزرگنج ہیلتھ سینٹر، چندن نگر سب ڈویڑن، ساگرڈیگی سپر اسپیشلٹی، کلیانی گاندھی میموریل، بیلڈا-دیبرا اور شالبنی سپر اسپیشلٹی، آمتلا ٹی سی یو، میٹیابروز سپر اسپیشلٹی ہسپتال۔ متعلقہ ضلع کے چیف ہیلتھ آفیسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ انہیں فوری طور پر چالو کیا جائے۔ 30 ستمبر تک انہیں فعال کرنا ہے اور چالو کرنے کے بعد سی سی ایم آئی ایس پورٹل پر اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ ہائبرڈ سی سی یوز ابھی تک ہسپتالوں کے حوالے نہیں کیے گئے۔ اس فہرست میں شامل ہیں: فالاکاٹا-اونڈا-پرولیا اور گوپال پور سپر اسپیشلٹی، رائے گنج میڈیکل، کلنا سب ڈویڑن، آسنسول ضلع ہسپتال۔ انہیں بھی 30 ستمبر تک تیار کر کے ہسپتالوں کے حوالے کرنا ہوگا۔
خراب موسم کی وجہ سے شوببھیندوکے ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ میں مسئلہ! کالمپونگ کی فضا میں چکر لگا کر سلی گوڑ ی واپس جا رہا ہے
خراب موسم کی وجہ سے وزیر اعلیٰ شوبھیندر ادھیکاری کے ہیلی کاپٹر کے لینڈنگ میں مشکل پیش آ گئی۔ کافی دیر تک وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر کالمپونگ کی فضا میں ہی چکر لگاتا رہا۔ رپورٹ شائع ہونے تک، دو بار کوشش کرنے کے باوجود ان کا ہیلی کاپٹر پہاڑی پر نہیں اتر سکا۔ آخر کار ہیلی کاپٹر میدان کی طرف روانہ ہو گیا۔
مریضوں کی تکلیف ختم کرنے کے لیے صحت محکمے کی جانب سے متعدد رہنما خطوط جاری...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments