فرینڈ ڈولینڈ کو گیانو کی ضرورت ہے‘: مہوا موئترا نے ٹرمپ کے مڈٹرم میم فیسٹ میں گیانیش کمار کو بھی گھسیٹا
ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی صدارت کی باقی مدت کے دوران ڈیموکریٹس کے کنٹرول والی کانگریس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ہندوستان میں سوشل میڈیا صارفین نے پہلے ہی امریکی صدر کے مستقبل کی ایک الگ ہی تصویر پیش کرنا شروع کر دی ہے۔
یہ میمز ہندوستانی سیاست تک بھی پہنچ گئے، جہاں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا بھی ٹرولنگ میں شامل ہوگئیں۔ انتخابات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ پر طنز کیا۔ انہوں نے لکھا، ”فرینڈ ڈولینڈ کو گیانو کی ضرورت ہے…“ یہاں ان کا اشارہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب تھا۔
ان کا یہ طنز بظاہر اس خیال پر مبنی تھا کہ گیانیش کمار کو امریکہ منتقل ہونے کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو ہندوستانی سیاست پر طنز کرنے کا ایک اور موقع بنا دیا گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے بھی اس مذاق کو مزید آگے بڑھایا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ”اگر گیانیش کمار ہوتے تو ٹرمپ کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہونے دیتے۔“
یوٹیوبر دھرو راٹھی نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”یہ مت بھولیے کہ ٹرمپ نے گیانیش کمار کی تعریف کی تھی۔ یہ بات آپ کو گیانیش کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔“ انہوں نے اس کے ساتھ ایک میڈیا رپورٹ بھی شیئر کی، جس میں ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان کے ووٹر شناختی نظام کی تعریف کا ذکر تھا۔
ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ہندوستان میں شیئر کی گئی ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو میں ٹرمپ کی وائٹ ہاو¿س سے رخصتی کا ایک طنزیہ منظر دکھایا گیا۔ ویڈیو میں امریکی صدر کو بے ہوش ہوتے، پھر وائٹ ہاو¿س سے گھسیٹ کر باہر نکالتے اور کوڑے دان میں ڈالے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایک دوسری اے آئی ویڈیو میں امریکی صدر کو ہندوستانی سڑک پر ستو کا شربت فروخت کرنے والے ایک خوانچہ فروش کے روپ میں پیش کیا گیا۔ ایک اور فرضی منظر میں ٹرمپ کو اوول آفس چھوڑ کر ہندوستان کے ایک سڑک کنارے کھانے کے اسٹال پر کاروبار کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور کئی ایسی سینیٹ نشستیں بھی ریپبلکنز سے چھین لی ہیں جو روایتی طور پر قدامت پسند ریاستوں میں تھیں۔ اس نتیجے کے بعد ٹرمپ کے لیے اپنے قانون سازی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا کافی مشکل ہونے کی توقع ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کو ٹرمپ انتظامیہ کی نگرانی اور اس کے کام کاج کی جانچ پڑتال کے لیے زیادہ اختیارات مل گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کو اپنی سیاسی مقبولیت کا امتحان بنا دیا تھا، لیکن نتائج نے ان کے مخالفین کو تنقید کے لیے کئی مواقع فراہم کر دیے ہیں۔ اب ڈیموکریٹس کانگریس میں اپنی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے اور ٹرمپ کے اقدامات کی تحقیقات کی تیاری کر رہے ہیں۔
فرینڈ ڈولینڈ کو گیانو کی ضرورت ہے‘: مہوا موئترا نے ٹرمپ کے مڈٹرم میم فیسٹ میں گیانیش کمار کو بھی گھسیٹا...
Source: Admin