موبائل کی وجہ سے ڈانٹ پڑنے پانچ سہیلیاں گھر سے فرار ہوگئیں
موبائل کی لت کی وجہ سے گھر میں ڈانٹ پڑی تھی۔ ناراض ہو کر پانچوں سہیلیوں نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا! جیسا سوچا ویسا ہی کیا۔ ایک ساتھ گھر چھوڑ دیا۔ تاہم ایک ٹوٹو ڈرائیور کو شک ہونے پر وہ پانچوں دوستوں کو لے کر تھانے پہنچ گیا۔ سمجھا بجھا کر پولیس نے پانچوں نابالغ لڑکیوں کو ان کے خاندان والوں کے حوالے کر دیا۔ یہ واقعہ کوچ بہار شہر کا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ پانچوں سہیلیاں ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ پانچوں شیتلک±چی کے چھوٹ شالباڑی علاقے کے بڑا گدائی کھوڑا وی ایم ہائی اسکول میں پڑھتی ہیں۔ الزام ہے کہ گھر میں ہمیشہ موبائل میں مگن رہتی تھیں، جس پر جھگڑا ہی رہتا تھا۔ ہمیشہ موبائل گھمانے پر گھر والے ڈانٹ بھی دیتے تھے۔ ناراض ہو کر پانچوں نے گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنایا۔ اسکول جا رہی ہیں کہہ کر گھر سے نکلیں تو سہی، لیکن پانچوں میں سے کوئی بھی اسکول نہیں گئی۔
شیتلک±چی سے پانچوں کوچ بہار شہر آ گئیں۔ سارا دن شہر میں گھومتی رہیں۔ شام ہونے پر ٹوٹو کرایہ پر لے کر نیو کوچ بہار اسٹیشن چلی گئیں۔ تاہم رات گزارنے کا کوئی پتہ کسی کے پاس نہیں تھا۔ اس پر پانچوں پریشان ہو گئیں۔ مشورہ کر کے انہوں نے ٹوٹو ڈرائیور سے کہا کہ وہ ان کے لیے کرایے کا کوئی گھر بندوبست کر دے۔ پانچ نابالغوں کی باتیں سن کر ٹوٹو ڈرائیور کو شک ہوا۔ تاہم اس نے پانچوں کو کچھ نہیں کہا۔ کرایے کا گھر بندوبست کر دینے کا کہہ کر اس نے انہیں ٹوٹو میں بٹھا کر راج بھون (بنگال گورنر ہاو¿س) کے سامنے لایا۔ وہاں موجود ٹریفک پولیس کو پوری واقعہ بتایا۔
اس ٹریفک پولیس کے مشورے پر ہی ٹوٹو ڈرائیور پانچوں نابالغ لڑکیوں کو کوٹوالی تھانے لے گیا۔ وہاں پولیس افسران نے سب کچھ سن کر پانچوں طالبہ کو سمجھایا۔ اس طرح گھر چھوڑ کر آنے سے کیا کیا خطرات ہو سکتے ہیں، وہ بھی بتایا۔ اس کے بعد اپنی غلطی سمجھ کر پانچوں کیشوریاں رونے لگیں۔ بعد میں خاندان کے افراد کو اطلاع دی گئی۔ وہ آ کر پانچوں کو لے کر گھر چلے گئے۔
موبائل کی وجہ سے ڈانٹ پڑنے پانچ سہیلیاں گھر سے فرار ہوگئیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments