Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

تیستا میں ہاتھی کے بچے کو بچا کر راتوں رات ’ہیرو‘ بن گئے 5 مچھیرے

Admin
By Admin
Sep 25, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

تیستا میں ہاتھی کے بچے کو بچا کر راتوں رات ’ہیرو‘ بن گئے 5 مچھیرے
تیستا میں ہاتھی کے بچے کو بچا کر راتوں رات ’ہیرو‘ بن گئے 5 مچھیرے — September 25, 2026
تیستا میں ہاتھی کے بچے کو بچا کر راتوں رات ’ہیرو‘ بن گئے 5 مچھیرے
مچھلی پکڑ کر ہی زندگی گزارنے والے یہ لوگ خود جنگلی حیات کے محافظ بن گئے۔ عام لوگوں میں بھی وہ غیر معمولی کارنامہ انجام دینے والے بن گئے ہیں۔ پانی کے تیز بہاو¿ میں تیستا ندی میں بہہ جانے والے ہاتھی کے بچے کو اجے، وشوناتھ سمیت 5 مچھیروں نے بچایا۔ اب ہر طرف ان ہی کی زبردست چرچا ہو رہی ہے۔ تقریباً ہر شخص ان مچھیروں کی تعریف کر رہا ہے۔
ان پانچ ’ہیروز‘ کے نام وشوناتھ داس، ببلو داس، مٹھو داس، اجے داس اور گوپال داس ہیں۔ انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ندی میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ طویل کوشش کے بعد ہاتھی کے بچے کو بحفاظت اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔ سلی گوڑی پولیس کمشنریٹ کی جانب سے انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ڈی سی پی (ٹریفک) قاضی شمس الدین احمد، اے سی پی (ٹریفک) سبیر دتہ، بھوریر آلو تھانے کے او سی سدیپ کمار دتہ اور گجل ڈوبا آو¿ٹ پوسٹ کے او سی راسبہاری ساہا موجود تھے۔
گزشتہ 21 ستمبر کو انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اس دن صبح سویرے اجے، مٹھو، گوپال، وشوناتھ اور ببلو تیستا میں مچھلی پکڑنے گئے تھے۔ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ کس مقام پر اچھی مچھلی مل سکتی ہے۔ اسی دوران اچانک ان کی نظر ہاتھی کے ایک بچے کی سونڈ پر پڑی۔ مچھیروں نے دیکھا کہ پانی کے تیز بہاو¿ میں وہ ڈوبتا جا رہا تھا۔
بھری ہوئی تیستا میں ہاتھی کا بچہ اپنی پوری طاقت سے جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ کبھی اس کی سونڈ پانی کے اوپر آتی تو کبھی سر ڈوب جاتا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے تیستا میں اس وقت ایک غیر مساوی جنگ جاری ہو۔ یہ منظر دیکھ کر مچھیرے خود کو روک نہیں سکے۔
بغیر کچھ سوچے سمجھے اجے اور مٹھو نے اپنی ڈونگی چھوڑ کر طوفانی تیستا میں چھلانگ لگا دی۔ گوپال، وشوناتھ اور ببلو بھی فوراً ہاتھی کے بچے تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہ کشتی بھی وہاں لے گئے۔ بچے کا وزن تقریباً 100 کلوگرام تھا۔ اس لیے اسے کشتی میں اٹھانا آسان نہیں تھا۔ کافی کوشش کے بعد چاروں نے مل کر اسے کشتی میں سوار کیا۔
جنگلات کے عملے سے ملی معلومات کے مطابق ہاتھی کے بچے کی عمر صرف دس دن تھی۔ اتنی کم عمر میں تیستا کے تیز بہاو¿ کا مقابلہ کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ کشتی میں سوار کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے وہ بے جان سا ہو گیا ہو۔ اس نے کچھ پانی بھی نگل لیا تھا۔ کسی طرح اسے کشتی کے کنارے تک لایا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد اور دیکھ بھال کے بعد ہاتھی کے بچے نے ردعمل دینا شروع کیا۔
تاہم ہاتھی کے بچے کو بچائے جانے کا منظر دیکھنے کے لیے تیستا کے کنارے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ ایک طرف ندی میں طویل جدوجہد کی تھکن اور دوسری طرف لوگوں کا ہجوم، ان سب سے ہاتھی کا بچہ خوف زدہ ہو گیا۔ جنگلات کے اہلکاروں نے فوری طور پر اس کے پاو¿ں رسی سے باندھ دیے اور اس کی ماں کی تلاش شروع کر دی۔
جنگلات کے اہلکاروں نے معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ لگایا کہ ہاتھی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ تیستا کے کنارے آیا تھا، اسی دوران وہ ندی میں ڈوب گیا۔ اپنے بچے کو تیستا میں بہتے دیکھ کر ماں ہاتھی بے چین ہو گئی تھی۔ چنانچہ بچے کی حالت کچھ بہتر ہونے کے بعد اسے اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا گیا۔
بچے کو اپنے پاس واپس پا کر ایسا محسوس ہوا جیسے ماں ہاتھی میں نئی جان آ گئی ہو۔ ماں کو دیکھ کر ہاتھی کا بچہ بھی مطمئن ہو گیا۔ اپنے بچے کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچانے میں کامیاب ہونے پر مچھیرے بھی خوشی سے سرشار تھے۔ ان کی آنکھوں کے کناروں پر خوشی کے آنسو بھی جھلک اٹھے۔

تیستا میں ہاتھی کے بچے کو بچا کر راتوں رات ’ہیرو‘ بن گئے 5 مچھیرے...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn