چولائی شراب نے شوہر اور دیور کو چھین لیا، لڑتے لڑتے علاقے کو نشے سے پاک کرنے والی ’دوسری درگا‘
وہ دس بازوو¿ں والی درگا نہیں ہیں۔ ہاتھ میں ترشول بھی نہیں ہے۔ لیکن ناانصافی کے خلاف لڑنے کا بے مثال حوصلہ ضرور ہے۔ مغربی مدناپور کے گھاٹال کے منوہرپور میں یہ ایک ’دوسری درگا‘ کی کہانی ہے۔ ان کا نام درگا مالک ہے۔ زہریلی چولائی شراب کی وجہ سے انہوں نے اپنے شوہر کو کھو دیا۔ اسی نشے کے باعث دیور کو بھی کھونا پڑا۔ یکے بعد دیگرے دو قریبی لوگوں کو کھونے کا درد کسی بھی انسان کو توڑ سکتا تھا۔ درگا بھی ٹوٹ گئی تھیں۔ لیکن وہ اسی غم میں رک نہیں گئیں۔ بلکہ جس نشے نے ان کے اپنے گھر کو برباد کیا، اسی نشے کے خلاف انہوں نے لڑائی شروع کر دی۔
ایک وقت میں گھاٹال کے منوہرپور کے مالک پاڑہ سمیت آس پاس کے علاقوں میں چولائی شراب کے بڑھتے اثر و رسوخ کو لے کر مقامی لوگوں میں ناراضی پائی جاتی تھی۔
نشے کی وجہ سے گھریلو جھگڑے، مالی نقصان، خواتین پر تشدد سمیت مختلف مسائل کی شکایات سامنے آتی تھیں۔ ایسے حالات میں درگا نے اکیلے ہی احتجاج شروع کیا۔ بعد میں علاقے کی مزید خواتین بھی ان کے ساتھ کھڑی ہونے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ کوشش ایک خواتین کی ٹیم یا ’پرمیلا باہنی‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، فی الحال تقریباً 50 خواتین اس مہم سے وابستہ ہیں۔ کہیں چولائی شراب بنانے یا فروخت کرنے کی خبر ملنے پر وہ اس کے خلاف احتجاج کرتی ہیں، مقامی لوگوں میں بیداری پیدا کرتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انتظامیہ سے رجوع کرتی ہیں۔
درگا کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی کسی فرد یا خاندان کے خلاف نہیں ہے۔ لڑائی نشے کے خلاف ہے۔ جس نشے نے ایک وقت میں ان کے اپنے خاندان سے ان کے عزیزوں کو چھین لیا، وہ نشہ دوبارہ کسی دوسرے خاندان کو اپنی لپیٹ میں نہ لے، یہی ان کا مقصد ہے۔
منوہرپور بازار میں مچھلی فروخت کرکے درگا اپنے گھر کا خرچ چلاتی ہیں۔ منوہرپور کے کئی باشندوں کے مطابق، درگا مالک کی کوششوں سے علاقے کی خواتین میں بیداری بڑھی ہے۔ پہلے بہت سے خاندان نشے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہونے کے باوجود کھل کر احتجاج کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے تھے۔ اب خواتین متحد ہو کر اپنے علاقے کے مسائل پر آواز اٹھا رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے، ”درگا نے اپنے عزیز کو کھونے کے غم کو دوسروں کے گھر بچانے کی لڑائی میں تبدیل کر دیا ہے۔“
علاقے کے رکن اسمبلی شیتل کپاٹ نے بھی اس کوشش کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ”درگا دیدی جیسی خواتین اگر اپنے خاندان اور علاقے کی آنے والی نسل کو بچانے کے لیے اس طرح منظم ہوں تو یہ معاشرے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔“
اور اسی لیے پوجا سے پہلے جب بنگال دیوی درگا کی پوجا میں مصروف ہوگا، تب منوہرپور کی درگا مالک کی کہانی بھی الگ انداز میں یاد دلاتی ہے کہ خواتین کی طاقت کا اظہار صرف مورتی کے پنڈال تک محدود نہیں، بلکہ حقیقی زندگی میں بھی ہوتا ہے۔
مورتی کے ہاتھوں میں ہتھیار ہوتے ہیں۔ منوہرپور کی درگا کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں۔ ان کا ہتھیار حوصلہ، احتجاج اور لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ ہے۔ شوہر اور دیور کو کھونے کے ذاتی غم سے آگے بڑھ کر تقریباً 50 خواتین کو ساتھ لے کر وہ آج بھی نشے کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ کہیں دوبارہ چولائی شراب کی خبر ملتی ہے تو انہیں آواز دی جاتی ہے۔ اور اسی آواز پر منوہرپور کی ’دوسری درگا‘ ایک بار پھر میدان میں اتر آتی ہیں۔
چولائی شراب نے شوہر اور دیور کو چھین لیا، لڑتے لڑتے علاقے کو نشے سے پاک کرنے والی ’دوسری درگا‘...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments