Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں حراست! ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر چھتیس گڑھ میں مرشدآباد کے باقی چار مزدور رہا

Admin
By Admin
Oct 08, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں حراست! ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر چھتیس گڑھ میں مرشدآباد کے باقی چار مزدور رہا
بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں حراست! ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر چھتیس گڑھ میں مرشدآباد کے باقی چار مزدور رہا — October 08, 2026
بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں حراست! ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر چھتیس گڑھ میں مرشدآباد کے باقی چار مزدور رہا
کلکتہ ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر چھتیس گڑھ میں زیرِ حراست مرشدآباد کے باقی چار مہاجر مزدوروں کو رہا کر دیا گیا۔ بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں انہیں ایک ماہ سے زائد عرصے تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ بدھ کی رات تقریباً 9 بجے انہیں چھتیس گڑھ کے ہولڈنگ سینٹر سے رہا کیا گیا۔ جمعرات کو اس مقدمے کی اگلی سماعت سے عین ایک رات قبل ریاست کی پولیس نے یہ قدم اٹھایا۔
گزشتہ پیر (5 اکتوبر) کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران کلکتہ ہائی کورٹ نے چھتیس گڑھ انتظامیہ پر سخت تنقید کی تھی۔ جسٹس کرشن راو¿ نے چھتیس گڑھ حکومت کے ’دوہرے معیار‘ پر سوال اٹھایا۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران نام خارج ہونے کے بعد ان چاروں مزدوروں نے سپریم کورٹ کے قائم کردہ ٹریبونل میں درخواست دائر کی تھی۔ وہ درخواست اب بھی زیرِ سماعت ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں بلاسپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور فارنرز رجسٹریشن آفیسر (FRO) کس طرح ان کی شہریت کا تعین کر سکتے ہیں۔ جسٹس راو¿ نے سوال کیا، ”اگر حکام کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ہندوستانی شہری نہیں ہیں، تو اپیل کرنے والی اتھارٹی یا ٹریبونل کیا کرے گا؟ کیا الیکشن کمیشن عام لوگوں کے ساتھ کھیل رہا ہے؟“
رہائی کے بعد شفیق الاسلام نامی ایک مزدور نے فون پر بتایا، ”ہم نے امید ہی چھوڑ دی تھی۔ بدھ کی رات کھانا کھانے کے بعد جب پہرے داروں کے سامنے حاضری دینے گئے تو انہوں نے بتایا کہ اب حاضری دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ہمیں فوری طور پر رہا کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے حکم نامے میں لکھا ہے کہ ہم بنگلہ دیشی نہیں بلکہ ہندوستانی ہیں۔“ شفیق الاسلام (39) کے علاوہ صابر شیخ (42)، ناصرالدین شیخ (35) اور لالٹو شیخ (28) کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔ کام کی تلاش میں وہ مرشدآباد کے شمشیر گنج اور ساہاباد سے چھتیس گڑھ گئے تھے۔ وہ گھر گھر جاکر مختلف اشیا فروخت کرتے تھے۔
گزشتہ 4 ستمبر کو بلاسپور کے سرگٹی تھانے کے چونچیا پاڑہ-گنیش نگر علاقے سے چھتیس گڑھ پولیس نے بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں 23 بنگالی مزدوروں کو حراست میں لیا تھا۔ بعد میں انہیں رائے پور کے ایک ہولڈنگ سینٹر بھیج دیا گیا۔ گزشتہ 18 ستمبر کو مقامی سول کورٹ کے حکم پر 19 افراد کو رہا کر دیا گیا، لیکن ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے ان چار افراد کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ گزشتہ اپریل ہی میں باقی 19 افراد کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے تھے۔ تاہم ان چار افراد کی درخواست اب بھی ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال میں ان کا مستقل پتہ موجود ہے اور وہ صرف روزگار کے لیے دوسری ریاست گئے تھے۔ ٹریبونل میں درخواست زیرِ سماعت رہنے کے دوران انہیں حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔
چھتیس گڑھ انتظامیہ نے مرشدآباد کے ضلع مجسٹریٹ سے ان مزدوروں کی شناخت کی تصدیقی رپورٹ طلب کی تھی۔ الزام ہے کہ مغربی بنگال انتظامیہ کی جانب سے یہ رپورٹ نہیں بھیجی گئی۔ مجبور ہوکر خاندانوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔اس معاملے میں ترنمول کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ سمیرال اسلام نے ایکس پر بعض افسران کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ”سیاسی اختلافات کو بھلا کر افسران کو غیر جانب داری سے لوگوں کا کام کرنا چاہیے۔ شہریوں کی مدد کرنا کوئی احسان نہیں بلکہ یہ انتظامی ذمہ داری ہے۔“وقت پر انتظامی مدد نہ ملنے کے باعث خاندانوں کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا، اس بات کی یاد دہانی کراتے ہوئے انہوں نے عدلیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں حراست! ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد بالآخر چھتیس گڑھ میں مرشدآباد کے باقی چار مزدور رہا...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn