Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

Kolkata

باروئی پور کیس میں سی پی ایم لیڈر لاہیک علی کو14 دن کی جیل حراست

باروئی پور کیس میں سی پی ایم لیڈر لاہیک علی کو14 دن کی جیل حراست

باروئی پور کیس میں سی پی ایم لیڈر لاہیک علی کو14 دن کی جیل حراست نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل کا واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد باروئی پور گرما گیا تھا۔ اس دوران ناکہ بندی، توڑ پھوڑ اور تشدد پھیلانے کے الزام میں گرفتار سی پی ایم لیڈر لاہیک علی کو عدالت نے دوبارہ ۱۴ دن کی جیل حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ جمعہ کو پولیس نے انہیں باروئی پور سب ڈویڑن عدالت میں پیش کیا۔ سماعت کے بعد جج نے یہ حکم دیا۔ اس سال کے انتخابات میں لاہیک باروئی پور مغربی اسمبلی حلقے سے بائیں بازو کے محاذ کے امیدوار تھے۔ جمعہ کو عدالت لے جاتے وقت انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں۔ سیاسی انتقام کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے میں ان کے ممکنہ کردار کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ تفتیش ابھی جاری ہے۔ باروئی پور کے واقعے میں گرفتاری کے بعد ابتداً لاہیک کو آٹھ دن کی پولیس حراست میں بھیجا گیا تھا۔ جب وہ مدت ختم ہوئی تو انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تفتیش کے مفاد میں مزید تین دن کی پولیس حراست کا حکم دیا۔ یہ تین دن کی پولیس حراست جمعہ کو ختم ہوئی۔ باروئی پور میں اجتماعی زیادتی کا شکار نابالغ کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں احتجاج پھیل گیا۔ الزام ہے کہ مظاہرین نے سڑکوں اور ریلوے کو بلاک کرنے کے علاوہ متعدد مقامات پر توڑ پھوڑ کی۔ جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ۵ جولائی کو واقعے کے دن لاہیک موقع پر موجود تھے اور انہی کی اکسانے سے ناکہ بندی اور توڑ پھوڑ ہوئی، اور علاقے میں تشدد پھیلا۔ اسی الزام کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔اس احتجاج کے دوران اندرجیت منڈل نامی ایک شخص کو عوامی پیٹائی کر کے قتل کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی طرف سے عوامی پیٹائی کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in Kolkata

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

10 months ago

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ

10 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

10 months ago

اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟

10 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

10 months ago

رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت

10 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

10 months ago

کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب

10 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

10 months ago

سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟

10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

10 months ago

موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں

10 months ago

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments