Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

سی پی ایم کے بک اسٹال پر وویکانند، شنکراچاریہ اور بدھ کی کتابیں

Admin
By Admin
Sep 26, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

سی پی ایم کے بک اسٹال پر وویکانند، شنکراچاریہ اور بدھ کی کتابیں
سی پی ایم کے بک اسٹال پر وویکانند، شنکراچاریہ اور بدھ کی کتابیں — September 26, 2026
سی پی ایم کے بک اسٹال پر وویکانند، شنکراچاریہ اور بدھ کی کتابیں
ایک زمانے میں کمیونسٹوں نے مذہب کو افیم سے تشبیہ دیتے ہوئے پرولتاریہ پر بورڑوا طبقے کے مظالم کی بات کی تھی۔ وہ دور یقیناً مختلف تھا۔ بعد کے زمانے میں طبقاتی جدوجہد میں مصروف کئی کمیونسٹ خاندانوں کے افراد کو بھی مذہب کا سہارا لیتے دیکھا گیا۔ اس وقت اسے ’ذاتی پسند‘ قرار دے کر وضاحت کی گئی تھی۔ لیکن آج حالات بالکل مختلف ہیں۔ ’رام بھکتوں‘ کا دباو¿ ہے، شاردوتسوو کو چھوڑ کر اگر ’درگا پوجا‘ نہ لکھا جائے تو بائیں بازو کو اسٹال لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور اسی ’دباو¿‘ میں اب سی پی ایم کی حالت ’نہ ش???? کو چھوڑیں، نہ ک±ل کو‘ جیسی ہوگئی ہے! اصول اور کاروبار کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس سال ان کے بک اسٹال پر سوامی جی، شنکراچاریہ اور گوتم بدھ کی سوانح عمری کی کتابیں زیادہ تعداد میں دستیاب ہوں گی۔ دوسرے برسوں کے مقابلے میں اس مرتبہ زیادہ تعداد میں کتابیں چھپوانے کے لیے دی گئی ہیں۔
پوجا کے چند دنوں کے دوران پنڈالوں کے سامنے مارکسی ادب کے اسٹال لگانا کولکاتا اور اضلاع میں سی پی ایم کی پرانی روایت ہے۔ اس دوران کامریڈ طبقہ اسی طرح عوام سے رابطہ قائم کرنے پر بھروسہ کرتا ہے۔ بنگال کی قدیم کہاوت کے مطابق اسے ’رتھ دیکھنا اور کیلے بیچنا‘ کہا جا سکتا ہے، یعنی ایک ہی موقع سے دو فائدے حاصل کرنا۔ ان اسٹالوں پر بائیں بازو کے لٹریچر کے علاوہ ملک و بیرونِ ملک کی کئی ترجمہ شدہ کہانیوں اور بنگال کے معروف ادیبوں کی لکھی ہوئی کتابیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ پوجا کے چار دنوں میں کتابوں کی خرید و فروخت بھی کافی اچھی ہوتی ہے۔
تاہم، اس سال صورتحال کچھ مختلف ہے۔ اس مرتبہ ریاست میں حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے واضح ہدایت ہے کہ شاردوتسو کے دن ختم ہوچکے ہیں، اگر ’درگا پوجا‘ نہیں لکھا گیا تو اسٹال لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس دباو¿ میں اپنی الحاد پر مبنی شناخت سے کچھ پیچھے ہٹتے ہوئے وہ اب بک اسٹالوں کو وویکانند، شنکراچاریہ اور گوتم بدھ کی کتابوں سے بھرنے جا رہے ہیں۔

سی پی ایم کے بک اسٹال پر وویکانند، شنکراچاریہ اور بدھ کی کتابیں...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn