Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

پیٹ میں درد، میڈیکل کالج لے جانے کے بعد ’انجیکشن دیتے ہی موت‘! بچے کے اہل خانہ کا احتجاج، پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی

Admin
By Admin
Oct 26, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

پیٹ میں درد، میڈیکل کالج لے جانے کے بعد ’انجیکشن دیتے ہی موت‘! بچے کے اہل خانہ کا احتجاج، پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی
پیٹ میں درد، میڈیکل کالج لے جانے کے بعد ’انجیکشن دیتے ہی موت‘! بچے کے اہل خانہ کا احتجاج، پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی — October 26, 2026
پیٹ میں درد، میڈیکل کالج لے جانے کے بعد ’انجیکشن دیتے ہی موت‘! بچے کے اہل خانہ کا احتجاج، پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی
کولکاتا میڈیکل کالج میں غلط علاج کے باعث بچے کی موت کا الزام سامنے آیا ہے۔ اتوار کی صبح آندول کے رہنے والے 10 سالہ پون یادو کو کولکاتا میڈیکل کالج لایا گیا تھا۔ پیٹ میں درد کی شکایت پر صبح تقریباً 10 بجے اسے میڈیکل کالج کے مدر اینڈ چائلڈ ہب میں داخل کرایا گیا۔ تاہم، اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ اسپتال لانے کے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ہی اس کی موت ہو گئی۔ ان کا الزام ہے کہ غلط علاج کی وجہ سے بچے کی جان گئی۔ بعد میں وزیر صحت شردوت مکھوپادھیائے اسپتال پہنچے اور بچے کی موت کے معاملے میں مناسب تحقیقات کی یقین دہانی اہل خانہ کو کرائی۔
اس واقعے کے بعد اتوار کی دوپہر کولکاتا میڈیکل کالج کا احاطہ کشیدہ ہو گیا۔ متوفی بچے کے اہل خانہ مشتعل ہو گئے۔ اس دوران مشتعل خاندان کے کئی افراد نے پولیس اور اسپتال کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ دھکا مکی اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ انہوں نے ہیلمٹ سے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ جواب میں پولیس نے بھی ان کا تعاقب کیا۔ پولیس اہلکار بھی ہیلمٹ اٹھا کر ان کی طرف بڑھے۔ آخرکار پولیس نے مشتعل افراد میں سے کئی کو حراست میں لے کر پولیس وین میں بٹھا دیا۔
چوتھی جماعت میں پڑھنے والے پون کے ماموں کا گھر کالج اسٹریٹ میں ہے۔ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ وہ وہاں گھومنے آیا تھا، اسی دوران اسے پیٹ میں درد محسوس ہونے لگا۔ اس حالت میں اتوار کے روز اسے کولکاتا میڈیکل کالج لے جایا گیا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ اسپتال میں داخلے کے وقت بچہ خود چل کر اندر گیا تھا، لیکن صبح ساڑھے 11 بجے انہیں بتایا گیا کہ ان کا بیٹا مر گیا ہے۔ اہل خانہ نے سوال اٹھایا کہ معمولی پیٹ درد سے بچے کی موت کیسے ہو سکتی ہے۔
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ غلط علاج کی وجہ سے بچے کی موت ہوئی۔ ان کا الزام ہے کہ اسپتال میں کوئی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور صرف جونیئر ڈاکٹر ہی علاج کر رہے تھے۔ خاندان نے یہ بھی الزام لگایا کہ جونیئر ڈاکٹر غلط بیانی کر رہے ہیں۔ متوفی کے ایک مشتعل رشتہ دار نے کہا، ”ہماری آنکھوں کے سامنے تین انجیکشن دیے گئے، لیکن وہ بتا رہے ہیں کہ دو انجیکشن دیے گئے تھے۔“
غلط انجیکشن دیے جانے کا الزام اسپتال انتظامیہ کے علم میں بھی آیا ہے۔ کولکاتا میڈیکل کالج کے پرنسپل اندرنیل وشواس نے بتایا کہ بچے کو پیٹ میں درد کی شکایت کے ساتھ شعب اطفال میں لایا گیا تھا۔ درد کم کرنے کے لیے انجیکشن دیا گیا۔ اچانک بچے کو کارڈیک اریسٹ ہوا تو اسے سی پی آر دیا گیا، لیکن تمام کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہیں جا سکا۔انہوں نے کہا، ”متوفی کے اہل خانہ نے ہم سے شکایت کی ہے کہ غلط انجیکشن دیا گیا تھا۔ ہم اس شکایت کی جانچ کریں گے۔“
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ پون کا علاج جونیئر ڈاکٹر کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس وقت کوئی سینئر ڈاکٹر کیوں موجود نہیں تھا۔ دراصل، اتوار یا دیگر تعطیلات کے دن سرکاری اسپتالوں میں مناسب تعداد میں ڈاکٹروں کی موجودگی کے معاملے پر پہلے ہی محکمہ صحت میں ایک میٹنگ ہو چکی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو ہی وزیر صحت شردوت مکھوپادھیائے نے واضح کیا تھا کہ تعطیلات کے دن بھی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی مناسب تعداد موجود ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود اتوار کو کولکاتا میڈیکل کالج میں ایک بار پھر یہی شکایت سامنے آئی۔اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ محکمہ صحت مناسب تحقیقات کرے اور معلوم کرے کہ پون کی موت کس وجہ سے ہوئی۔ انہیں اس بات کا جواب بھی چاہیے کہ جائے وقوعہ پر کوئی سینئر ڈاکٹر کیوں موجود نہیں تھا۔
واقعے کے وقت آندول میں واقع اپنے گھر پر موجود پون کے والد نریش یادو نے صبح بیٹے کے پیٹ میں درد کی اطلاع ملنے پر اپنی اہلیہ سے کہا تھا کہ اسے کولکاتا میڈیکل کالج لے جائیں۔ نریش کا بھی الزام ہے کہ غلط انجیکشن دینے کے باعث ان کے بیٹے کی موت ہوئی۔ انہوں نے کہا، ”وہاں کوئی سینئر ڈاکٹر نہیں تھا۔ سبھی جونیئر ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے میرے بچے کو مار ڈالا۔“واقعے کی اطلاع ملنے پر وزیر صحت شردوت مکھوپادھیائے کولکاتا میڈیکل کالج پہنچے۔ ان کے ساتھ جوڑاسنکو کے رکن اسمبلی وجے اوجھا بھی موجود تھے۔ دونوں نے متوفی بچے کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ شردوت نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔اہل خانہ سے بات چیت کے بعد پریس کانفرنس میں شردوت نے کہا، ”تحقیقات اور تفتیش کے دوران جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف، وارڈ بوائے یا جونیئر ڈاکٹر، کسی کو بھی اس دائرے سے باہر نہیں رکھا جائے گا۔“ابتدا میں پون کے والدین اپنے بیٹے کے پوسٹ مارٹم کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے کے جسم پر کوئی چیرا لگایا جائے۔ تاہم، وزیر صحت کی درخواست پر والدین پوسٹ مارٹم کے لیے راضی ہو گئے۔وزیر نے کہا، ”والدین نے علاج میں لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ میں ان کی شکایت کو تسلیم کرتا ہوں۔ ان کا الزام ہے کہ ایک انجیکشن دینے سے بچے کی موت ہو سکتی ہے۔ میں نے انہیں بتایا ہے کہ ان الزامات کے درست یا غلط ہونے کا تعین کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔“شردوت نے بتایا کہ انجیکشن کب دیا گیا، کتنی مقدار میں دیا گیا اور آیا وہ درست انجیکشن تھا یا نہیں، ان تمام باتوں کا پتہ پوسٹ مارٹم کے بعد چل سکے گا۔وزیر صحت نے اس دن پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ پون کو کولکاتا میڈیکل کالج لانے کے بعد کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کو لگا تھا کہ مریض شاک کی حالت میں ہے۔ شردوت نے بتایا، ”شاک کے مطابق علاج شروع کر دیا گیا۔ اس دوران دو انجیکشن دیے گئے۔ ایک رینٹیک (Rantac) اور دوسرا ڈروٹین (Drotin) تھا۔ ڈروٹین پیٹ کا درد کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرااوسیئس چینل کے ذریعے 400 ملی لیٹر بولس فلوئڈ دیا گیا۔“وزیر صحت کے مطابق، اسی عمل کے دوران مریض کو اسپتال میں داخل کرنے کے لیے ضروری کاغذات اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیے گئے تھے۔ لیکن اسی دوران بچے کے دل کی دھڑکن مزید کمزور ہو گئی۔انہوں نے کہا، ”اس وقت انٹیوبیشن کا عمل شروع کیا گیا، جس میں منہ کے راستے ٹیوب ڈال کر اسے سانس کی نالی تک پہنچایا جاتا ہے۔ دل کو دوبارہ متحرک رکھنے کے لیے سینے پر دباو¿ ڈالنے کا عمل بھی شروع کیا گیا۔ یہ عمل 30 منٹ سے زیادہ جاری رہا۔ اس کے باوجود جب دل کی دھڑکن بحال نہیں ہوئی تو بچے کو مردہ قرار دے دیا گیا۔“دوسری جانب، واقعے سے واقف جونیئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچے کے پیٹ کا درد کم کرنے کے لیے پہلے اسے ڈروٹین نامی انجیکشن دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس وقت شعب? اطفال میں موجود انٹرن نے گیس کی دوا پینٹوپرازول دینے کے بارے میں سوچا تھا۔ لیکن پینٹوپرازول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اہل خانہ سے کہا گیا کہ وہ اسے باہر سے لے آئیں۔جونیئر ڈاکٹروں کے مطابق، بچے کے اہل خانہ کو دوا لانے میں تاخیر ہوئی، جس کے بعد پینٹوپرازول کے متبادل کے طور پر رینٹیک آئی ایم (Rantac IM) نامی انجیکشن دیا گیا۔ جونیئر ڈاکٹروں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی علامات میں رینٹیک آئی ایم انجیکشن کا استعمال عام بات ہے۔ تاہم، انجیکشن دینے کے بعد ہی مریض شاک کی حالت میں چلا گیا، جس کے نتیجے میں اسے کارڈیک اریسٹ ہوا اور پون کی موت ہو گئی۔ایک جونیئر ڈاکٹر نے بتایا، ”انجیکشن دینے کے بعد اگر درد کم ہو جاتا تو ایکس رے کرانے کا منصوبہ تھا، لیکن ہمیں یہ موقع ہی نہیں ملا۔“

پیٹ میں درد، میڈیکل کالج لے جانے کے بعد ’انجیکشن دیتے ہی موت‘! بچے کے اہل خانہ کا احتجاج، پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn