Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

ضلع کے مریضوں کو کولکاتا کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہیں مل رہا: بی جے پی رہنما

Admin
By Admin
Oct 10, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

ضلع کے مریضوں کو کولکاتا کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہیں مل رہا: بی جے پی رہنما
ضلع کے مریضوں کو کولکاتا کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہیں مل رہا: بی جے پی رہنما — October 10, 2026
ضلع کے مریضوں کو کولکاتا کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہیں مل رہا: بی جے پی رہنما
ریاست کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں طبی نظام اب بھی مضبوط نہیں ہے۔ بیماری ذرا پیچیدہ ہوتے ہی مریضوں کو کولکاتا کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن دارالحکومت کے اسپتالوں میں بستر حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوامی نمائندہ ہونے کے باوجود مریضوں کے لیے داخلے کا انتظام نہ کر پانے پر جنگی پور کے بی جے پی رکن اسمبلی چِتّو مکھوپادھیائے نے سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے ایک بار اپنی پوسٹ میں ’دلالوں‘ کو پکڑنے کی بات بھی لکھی تھی۔ تاہم بعد میں انہوں نے ’دلال‘ کا لفظ مٹا دیا۔ نئی حکومت کے پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود کولکاتا کے سرکاری اسپتالوں میں کیا اب بھی ’دلال راج‘ برقرار ہے؟ یہ سوال البتہ اپنی جگہ موجود ہے۔
جنگی پور کے بزرگ رکن اسمبلی چِتّو بابو نے گزشتہ بدھ کو سوشل میڈیا پر لکھا، ”کتنی بے بسی اور خوف ناک صورتِ حال ہے! تشویش ناک حالت میں مریضوں کو علاج کے لیے کولکاتا لے جاتے وقت ان کے اہلِ خانہ کے دلوں میں زلزلہ سا آ جاتا ہے۔۔۔ کیرم کے گٹّوں کی طرح مریضوں کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کے چکر لگواتے لگواتے آخرکار وہ ہمیشہ کے لیے آرام کرنے چلا جاتا ہے! یہ روز ہو رہا ہے۔۔۔“
حالانکہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو اس پریشانی سے بچانے کے لیے بی جے پی حکومت نے بڑے زور و شور سے ’انٹیگریٹڈ کنٹرول روم‘ شروع کیا ہے۔ گزشتہ 9 جولائی کو وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے صحت بھون میں اس نظام کا جائزہ لیا تھا۔ ’انٹیگریٹڈ کنٹرول روم‘ شروع کرنے کا بنیادی مقصد ضلع کے اسپتالوں سے بلاوجہ مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں بھیجنے کے رجحان کو روکنا ہے۔ مریضوں کو ریفر کرنے کا یہ مسئلہ کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ الزام ہے کہ ضلع کے سرکاری ڈاکٹر کئی مریضوں کو غیر ضروری طور پر کولکاتا کے اسپتالوں میں بھیجنے کا مشورہ دے کر اپنی ذمہ داری سے بچ نکلتے ہیں۔
چِتّو بابو نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ”سرکاری اسپتالوں کا بنیادی ڈھانچہ ایسا ہو گیا ہے کہ بس مریضوں کو ریفر ہی کیا جا رہا ہے، بار بار ریفر کیا جا رہا ہے!“ صحت بھون کے ذرائع نے بتایا تھا کہ کنٹرول روم کے ذریعے اس معاملے پر نظر رکھی جائے گی۔ مریضوں کو ریفر کرنے کا سلسلہ روکنے کے لیے حکومت نے رہنما ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
اس سے بھی بڑا مقصد سرکاری اسپتالوں سے ’دلال راج‘ کا خاتمہ کرنا تھا۔ صحت بھون نے کہا تھا کہ نہ صرف کولکاتا بلکہ سب ڈویڑن کی سطح کے سرکاری اسپتالوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے 24 گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔ خود وزیر اعلیٰ نے کہا تھا، ”اگر آج کسی دلال کو اسپتال میں دیکھا گیا تو کل وہ وہاں نظر نہیں آئے گا۔“
جنگی پور کے رکن اسمبلی نے بدھ کی رات 11 بج کر 7 منٹ پر جو پوسٹ کی تھی، اس میں لکھا تھا، ”اب میں جب بھی کولکاتا جاو¿ں گا تو دلالوں یا ایسے لوگوں سے رابطہ کرکے واپس آو¿ں گا جو بے بس لوگوں کی جان بچانے کے لیے اسپتال میں داخلے کا انتظام کر سکتے ہیں!“
اس کے بعد جمعرات کی صبح 7 بج کر 17 منٹ تک چِتّو بابو نے اس پوسٹ میں چھ مرتبہ ترمیم کی۔ چوتھی مرتبہ ترمیم تک ’دلال‘ کا لفظ برقرار تھا۔ پانچویں مرتبہ ترمیم کرتے ہوئے انہوں نے یہ لفظ مٹا دیا اور لکھا، ”اب میں جب بھی کولکاتا جاو¿ں گا تو ایسے لوگوں سے رابطہ کرکے واپس آو¿ں گا جو بے بس لوگوں کی جان بچانے کے لیے اسپتال میں داخلے اور ہمدردانہ علاج کا انتظام کر سکتے ہیں۔

ضلع کے مریضوں کو کولکاتا کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہیں مل رہا: بی جے پی رہنما...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn