آئی ایس ایف نے ’لفافہ‘ انتخابی نشان ریتبرت کی قیادت والی ڈیموکریٹک ٹی ایم سی کے ہاتھوں کھو دیا،
آل انڈیا سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) نے ’لفافہ‘ انتخابی نشان ریتبرت بنرجی کی قیادت والی ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس (ڈی ٹی سی) کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ترنمول کے باغی ارکان اسمبلی کی پارٹی کو ریاستی پارٹی کے طور پر تسلیم کر لیا۔
آئی ایس ایف ایک غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے اور اسے اپنے امیدواروں کے لیے ایک مشترکہ انتخابی نشان استعمال کرنے کی رعایت حاصل ہے۔ آئی ایس ایف کو یہ رعایت الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر، 1968 کے پیرا 10B کے تحت حاصل تھی۔ پارٹی نے 2026 میں ’لفافہ‘ انتخابی نشان کا انتخاب کیا تھا۔
2021 میں، جب آئی ایس ایف بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ نہیں تھی، اس نے اپنے امیدواروں کو بہار کی راشٹریہ سیکولر مجلس پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں اتارا تھا، تاکہ اس کے تمام امیدواروں کو ایک مشترکہ انتخابی نشان مل سکے۔ اس وقت بھی آئی ایس ایف نے ’لفافہ‘ نشان ہی منتخب کیا تھا۔
غیر تسلیم شدہ جماعتیں وہ ہوتی ہیں جو ریاستی اور قومی جماعتوں کے لیے مقررہ ووٹ فیصد یا نشستوں کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ ریاستی اور قومی جماعتوں کو بالترتیب ریاست یا پورے ملک میں الاٹ کیے گئے انتخابی نشان استعمال کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ پیرا 10 کے تحت ریاستی جماعتیں عملی طور پر پورے ہندوستان میں اپنا انتخابی نشان استعمال کر سکتی ہیں، سوائے ان ریاستوں کے جہاں کسی دوسری ریاستی جماعت کو وہی نشان حاصل ہو۔
غیر منقسم ترنمول کانگریس مغربی بنگال، میگھالیہ اور تریپورہ میں ’گھاس پر جڑواں پھول‘ انتخابی نشان کے ساتھ ریاستی جماعت تھی۔ اس لیے اس کے عبوری جانشین ڈی ٹی سی اور ممتا اے آئی ٹی سی کو بھی ان کے تمام امیدواروں کے لیے مشترکہ انتخابی نشان پیش کیا گیا، جب تک کہ تنازع حل نہیں ہو جاتا۔ اس کا اطلاق آسام پر بھی ہوتا ہے، جہاں ممتا بنرجی کے وفادار ترنمول رکن نے ناگاو¿ں اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔
ڈی ٹی سی نے ’لفافہ‘ کو اپنی پہلی ترجیح، ’بیٹری ٹارچ‘ کو دوسری اور ’پنسل باکس‘ کو تیسری ترجیح کے طور پر منتخب کیا تھا۔ یہ تمام نشان ان آزاد انتخابی نشانات کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں سیاسی جماعتیں منتخب کر سکتی ہیں۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، جو آئی ایس ایف کے ساتھ اتحاد میں تھی، نے گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران ’لفافہ‘ انتخابی نشان استعمال کیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ’لفافہ‘ نشان ڈی ٹی سی کو الاٹ کیے جانے کے فیصلے نے آئی ایس ایف کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ 2021 سے آئی ایس ایف نے اس نشان کو اپنی پارٹی کی شناخت کے طور پر مقبول بنایا تھا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق آئی ایس ایف نے نندی گرام ضمنی انتخاب کے لیے اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے اور اب اسے نئے انتخابی نشان کی تلاش کرنی ہوگی۔
جمعہ کو امیدواروں کی نامزدگی واپس لینے کی مدت ختم ہونے کے بعد آئی ایس ایف کو الیکشن کمیشن کی آزاد انتخابی نشانوں کی فہرست میں سے کوئی نیا نشان منتخب کرنا ہوگا۔ آئی ایس ایف کے چیئرمین نوشاد صدیقی نے جمعہ کو پارٹی کی قیادت کے ساتھ انتخابی نشان کے معاملے پر میٹنگ کی۔
آئی ایس ایف کے ایک رہنما نے کہا، ”نندی گرام ضمنی انتخاب کے لیے ہماری انتخابی مہم کا مواد تیار ہے۔ تمام مہماتی مواد پر لفافہ نشان چھپا ہوا ہے۔ بنگال میں پارٹی کی شناخت لفافہ نشان سے قائم ہوئی تھی۔ اب ہمیں دوبارہ ابتدا سے شروع کرنا ہوگا۔“
ریاستی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کے بعد صدیقی نے کہا کہ آئی ایس ایف نے ’لفافہ‘ انتخابی نشان ڈی ٹی سی کو الاٹ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ واضح طور پر اپوزیشن کو ان جگہوں پر کمزور کرنے کا منصوبہ ہے جہاں ان کی مضبوط موجودگی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک مخصوص طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ہم اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ہم نے نامزدگیاں داخل کی تھیں اور الیکشن کمیشن کے سامنے سب کچھ بالکل واضح تھا۔ اس کے باوجود وہ اسی نشان کو کسی دوسری پارٹی کو کیسے الاٹ کر سکتے ہیں، چاہے وہ آزاد انتخابی نشان ہی کیوں نہ ہو؟
آئی ایس ایف نے ’لفافہ‘ انتخابی نشان ریتبرت کی قیادت والی ڈیموکریٹک ٹی ایم سی کے ہاتھوں کھو دیا،...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments