سی پی ایم نے کاکروچ سے سبق لے کر نوجوانوں کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا
دہلی میں جن زیڈ کی قیادت میں چلنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) تحریک کی کامیابی، جس کے نتیجے میں 25 جولائی کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا، بظاہر سی پی ایم کے لیے ایک نیا سیاسی اشارہ ثابت ہوئی ہے۔ پارٹی اب اس نسل تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے جو طویل عرصے سے اس کے روایتی حمایتی دائرے سے باہر رہی ہے۔
ایسے وقت میں جب بائیں بازو کی جماعت بنگال میں اپنے انتخابی اور تنظیمی اثر و رسوخ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، سی پی ایم نے سیاسی سرگرمیوں کے لیے ایک مختلف زبان اور انداز اپنانا شروع کیا ہے۔ پارٹی اب صرف ریلیوں، جلسوں اور روایتی پروگراموں پر انحصار کرنے کے بجائے ثقافت، غیر رسمی مباحثوں، سماجی مسائل اور احتجاج کے غیر روایتی طریقوں کے ذریعے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس پہل میں سابق وزیر اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ سے وابستہ ثقافتی اور فکری ورثے سے خاصی مدد لی جا رہی ہے۔ بدھادیب بھٹاچاریہ کلچرل سینٹر (BBCC) کے ذریعے سی پی ایم نے ایسا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی ہے جہاں جنریشن زیڈ کے لیے سیاسی نظریات کو زیادہ قابلِ فہم انداز میں زیر بحث لایا جا سکے۔
سی پی ایم کے ایک سینئر رہنما نے کہا، ”یہ ایک خاص کوشش ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ریلیوں اور جلسوں جیسے روایتی طریقوں کے بغیر بھی نوجوانوں تک دوسرے انداز میں پہنچا جا سکتا ہے۔ اسی پکار کی عکاسی تھی۔“ ریاستی پارٹی سکریٹری محمد سلیم کی طرح یہ رہنما بھی جمعرات کو باراسات کے رابندر بھون آڈیٹوریم میں سامعین کے درمیان بیٹھ کر اس تجربے کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
(نسل کی پکار)‘ کے عنوان سے منعقد اس پروگرام میں چند سو نوجوانوں کی متاثر کن شرکت دیکھنے کو ملی۔ ان میں سے بیشتر کا بظاہر سی پی ایم سے کوئی رسمی تنظیمی تعلق نہیں تھا۔ نوجوانوں نے کمیونزم، قوم پرستی، بے روزگاری، تعلیم، مزاحمت اور متبادل میڈیا کے کردار جیسے موضوعات پر بائیں بازو کے نوجوان رہنماو¿ں سے گفتگو کی۔
اس پروگرام پر جنتر منتر کے احتجاج کا اثر بھی واضح طور پر نظر آیا، کیونکہ اس میں ایس ایف آئی کی رہنما عائشے گھوش موجود تھیں۔ طالب علم رہنما نے جنتر منتر میں CJP رہنماو¿ں کے ساتھ الگ سے بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ جنتر منتر کا یہ احتجاج NEET امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہو گیا تھا۔
شمالی 24 پرگنہ ضلع کمیٹی سے وابستہ ایک DYFI رہنما نے کہا، ”صرف جنتر منتر تحریک کی کامیابی ہی نہیں، بلکہ بی جے پی اور نریندر مودی کے خلاف حالیہ تحریکوں کے رجحان نے بھی پارٹی کو اس نسل تک پہنچنے کے لیے حوصلہ دیا ہے، اس امید کے ساتھ کہ اپنا کھویا ہوا عوامی حمایت کا دائرہ دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔“
تاہم، سی پی ایم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ اگرچہ طلبہ کارکنان سڑکوں پر ہونے والی تحریکوں میں بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں، لیکن نوجوانوں کو باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔
گزشتہ سال مدورئی میں منعقد سی پی ایم کی 24ویں پارٹی کانگریس میں پیش کی گئی تنظیمی رپورٹ میں ”نئے نوجوان کل وقتی کارکنوں کی بھرتی اور ان کی نظریاتی و سیاسی تربیت“ کے لیے مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
سی پی ایم نے کاکروچ سے سبق لے کر نوجوانوں کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments