متعدد امریکی اور اسرائیلی حکام کے اس انکشاف کے بعد کہ امریکہ اور اسرائیل نے تین مشرقی افریقی ممالک کے حکام سے غزہ سے فلسطینیوں کو آباد کرنے کے لیے اپنی زمینوں کے استعمال پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے، صومالیہ اور اس الگ ہونے والے صومالی سرزمین کی جانب سے ردعمل سامنے آگیا ہے۔ صومالیہ اور علاحدگی پسند صومالی لینڈ کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ دونوں ممالک کو غزہ سے فلسطینیوں کی آباد کاری کے لیے امریکہ یا اسرائیل کی طرف سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صومالی وزیر خارجہ احمد معلم فقی نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک کسی بھی فریق کی طرف سے کسی بھی تجویز یا اقدام کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے جس سے فلسطینی عوام کے اپنی سرزمین پر امن سے رہنے کے حق کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صومالی حکومت کو ایسی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی۔ موغادیشو کسی بھی ایسے منصوبے کی مخالفت کرتا ہے جس میں دیگر رہائشیوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے صومالی زمینوں کا استعمال شامل ہو۔ صومالی لینڈ کے وزیر خارجہ عبد الرحمن ظاہر ادان نے کہا ہے کہ مجھے اس حوالے سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی فلسطینیوں کے حوالے سے کسی سے کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ واضح رہے امریکی اور اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ فلسطینیوں کو آباد کرنے کے حوالے سے مجوزہ تین ممالک سوڈان، صومالیہ اور صومالیہ کے الگ ہونے والا خطہ صومالی لینڈ ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان بات چیت کا کیا نتیجہ نکلا یا اس حوالے سے کس حد تک پیشرفت حاصل ہوئی۔ دوسری جانب سوڈانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ لیکس غزہ کی پٹی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن اور تل ابیب کے عزم کی عکاسی کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کی عرب اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ یہ تینوں علاقے، جن میں غربت اور عدم استحکام کی شرح بھی زیادہ ہے، غزہ کے فلسطینیوں کو "خوبصورت علاقوں" میں آباد کرنے کے ٹرمپ کے سابق اعلان کردہ ہدف کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ یاد رہے حالیہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سابق منصوبے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو کوئی بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرے گا۔ دریں اثنا انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے گزشتہ اتوار کو اس بات پر زور دیا تھا کہ ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے اور اس کے لوگوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام جاری ہے اور مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر آباد کاری کی توسیع بھی کی جا رہی ہے۔
Source: Social Media
صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن اس ہفتے ٹیلیفون پر بات کرسکتے ہیں، اسٹیو وٹکوف
احرام کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا: ماحول دوست حج کا فروغ
بلوچستان: نوشکی میں بم دھماکہ، پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک، 32 زخمی
سنیتا ولیمس اور بُچ ولمور کی زمین پر واپسی کی الٹی گنتی شروع، آئی ایس ایس میں داخل ہوا کُرو ڈریگن
یمن میں امریکی فضائی حملوں میں متعدد حوثی رہنما مارے گئے ہیں، مائیکل والٹز کا دعویٰ
شمالی مقدونیہ کے نائٹ کلب میں آتشزدگی، 59 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے
احرام کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا: ماحول دوست حج کا فروغ
بلوچستان: نوشکی میں بم دھماکہ، پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک، 32 زخمی
صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن اس ہفتے ٹیلیفون پر بات کرسکتے ہیں، اسٹیو وٹکوف
یمن میں امریکی فضائی حملوں میں متعدد حوثی رہنما مارے گئے ہیں، مائیکل والٹز کا دعویٰ
شمالی مقدونیہ کے نائٹ کلب میں آتشزدگی، 59 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے
"بمباری کے نیچے سرنگ": سابق اسرائیلی قیدی کے حماس کی سرنگوں کے بارے میں حیران کن انکشافات
طالبان نے عمر رسیدہ برطانوی جوڑے کو ’سخت سکیورٹی والی جیل‘ میں منتقل کر دیا
خلا میں 9 ماہ تک پھنسی رہنے والی انڈین نژاد امریکی خلاباز کو ناسا کتنی رقم دے گا؟