کولکاتا: نیو مارکیٹ کی مرزا غالب اسٹریٹ میں واقع ایک کثیر منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس عمارت کی تقریباً ہر منزل پر الگ الگ ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس قائم ہیں، جہاں 8 بائی 8 کے انتہائی تنگ اور گھپچی کمرے بنائے گئے ہیں۔ منگل کی دیر رات عمارت کی تیسری منزل پر واقع ایک ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اگرچہ آگ کا پھیلاؤ زیادہ شدید نہیں تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے زہریلے دھوئیں نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث 1 بچہ، 2 خواتین اور 6 مردوں سمیت 9 افراد کی دردناک موت ہو گئی۔
حادثے کا شکار ہونے والے ہوٹل میں اندر آنے اور باہر جانے کا محض ایک ہی تنگ راستہ تھا۔ ہنگامی صورتحال کے لیے کوئی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا۔ دھوئیں کے شدید طوفان میں مقیمین کو باہر نکلنے کا راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اپنی جان بچانے کے لیے کچھ لوگ باتھ روم میں گھس گئے اور وہاں کی کھڑکیاں توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کرنے گے۔
مقیمین کا الزام ہے کہ حادثے کے بعد ہوٹل انتظامیہ کا کوئی بھی شخص مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔ اگر فائر بریگیڈ کے اہلکار بروقت نہ پہنچتے تو شاید مزید لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔
اس عمارت میں زیادہ تر دیگر ریاستوں اور بنگلہ دیش سے آئے وہ لوگ ٹھہرے ہوئے تھے جو کولکاتا علاج کروانے آئے تھے۔ رامپورہاٹ سے آئے ہوئے اعجاز احمد نامی ایک شخص نے بتایا کہ وہ چوتھی منزل کے ایک گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ رات تقریباً سوا دو بجے دو خواتین کی دل دہلا دینے والی چیخوں سے ان کی آنکھ کھلی۔ جیسے ہی انہوں نے کمرے کا دروازہ کھولا، زہریلا دھواں اندر بھر گیا۔ گیلری اتنی تنگ تھی کہ دھوئیں میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
عمارت کی سب سے اوپری منزل پر رہنے والے ایک مقامی خاندان نے بتایا کہ انہوں نے ہوٹل انتظامیہ سے بارہا فائر سیفٹی کے انتظامات کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن کسی نے کوئی بات نہیں سنی۔ انتظامیہ کو شکایتیں کرنے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
بی جے پی رہنما سنتوش پاٹھک نے موقع پر پہنچ کر احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ یہ بنیادی طور پر ایک رہائشی عمارت تھی، جسے غیر قانونی طور پر تجارتی ہوٹلوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہوٹلوں کے کمرے بڑھانے کے لیے عمارت کے اہم پلرز تک کاٹ دیے گئے تھے، جس سے پوری عمارت ساخت کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔
Source: Admin
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
11 months ago
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
11 months ago
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی
5 months ago
الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کو ہٹا دیا
5 months ago
اس بار بھی بنگال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں! ممتا بنرجی کی پھر سے ہو گی جیت
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments