Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

آزادی کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں، کشن جی لال سلام کیوں لکھا جا رہا ہے؟ شوبھندو ادھیکاری کا سوال

Admin
By Admin
Aug 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ANNAPURNA YOJANA PAR NUASHAD SIDDIQUI KA REACTION,BJP KE AMRA ANNAPURNA PAR UTHAAYE SWASAL

آزادی کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں، کشن جی لال سلام کیوں لکھا جا رہا ہے؟ شوبھندو ادھیکاری کا سوال
آزادی کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں، کشن جی لال سلام کیوں لکھا جا رہا ہے؟ شوبھندو ادھیکاری کا سوال — August 28, 2026
آزادی کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں، کشن جی لال سلام کیوں لکھا جا رہا ہے؟ شوبھندو ادھیکاری کا سوال
راکھی کی تقریب میں جا کر وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے یادو پور یونیورسٹی کو نشانہ بنایا۔ وہاں کے فن شعبہ کی دیوار پر کیوں 'کشن جی لال سلام' کا نعرہ لکھا ہوتا ہے، وہاں سے کیوں 'کشمیر مانگے آزادی' کا نعرہ اٹھتا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا۔ بتایا کہ کلکتہ کی سڑکوں پر اس طرح کے نعرے دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہے۔
راکھی کے موقع پر جمعہ کو شوببھیندو کے متعدد پروگرام تھے۔ پہلے وہ اپنے اسمبلی حلقہ بھوانی پور گئے۔ بعد میں نذرول منچ میں ریاست کے کھیل شعبہ کے زیر اہتمام منعقدہ رکشا بندھن تہوار میں شامل ہوئے۔ بھوانی پور سے شوبھیندونے کہا، "کلکتہ کی سڑکوں پر جب دیکھتا ہوں آزادی آزادی، تکلیف ہوتی ہے۔ کس کی آزادی بھائی؟ ہمارے آزادی پسندوں کی قربانیاں، نیتا جی کی جنگ، ماتنگینی ہزارہ کی قربانی کو یاد رکھنا چاہیے۔ بھارت تو 1947 میں ہی آزاد ہو گیا تھا۔" اس کے بعد انہوں نے براہ راست یادو پور یونیورسٹی کا نام لیا۔ شوبھیندو نے کہا، "یادو پور یونیورسٹی سینٹر فار ایکسیلنس ہے۔ جس کشمیر کے لیے پاکستان کے ساتھ ہماری اتنی جنگیں ہوئیں، اتنی لڑائیاں ہوئیں، کلکتہ کی سڑک پر وہ 'کشمیر مانگے آزادی' لکھیں گے؟ یہ تکلیف دہ ہے۔ جادو پور میں فن شعبہ کی دیوار پر لکھیں گے، 'ریڈ سالیوٹ کشن جی'! نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں؟"
مارے گئے ماو¿ نواز لیڈر کشن جی کے تناظر کی وضاحت کرتے ہوئے شوبھیندو نے مزید کہا، "کشن جی تو کہتے ہیں، ووٹ بائیکاٹ کرو، ووٹ نہیں دینا! کشن جی کہتے ہیں، آئین کو جلا دو۔ بھارت کو گومتی سے گوداوری تک تقسیم کرو۔" وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ مکمل 'بندے ماترم' پر کیوں اعتراض کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "بندے ماترم تو کوئی سیاسی رہنما نہیں لکھ کر گیا۔ ادب کے بادشاہ بنکم چندر چٹوپادھیائے لکھ کر گئے ہیں۔ اس پر کیا اعتراض؟" اسی سلسلے میں انہوں نے کوڑا کرکٹ صاف کرنے کا پیغام دیا۔ کہا، "ملک کے باہر جو دشمن ہیں، ان کو تو ہم نے اپنی طاقت بتا دی ہے، مستقبل میں بھی بتائیں گے۔ لیکن ملک کے اندر سے جو لوگ وطن پرستی، قوم پرستی، بندے ماترم اور جن گن من ادھی نائیک پر حملہ کرتے ہیں، ان کو بھی آہستہ آہستہ گھر کے کوڑے کرکٹ کی طرح صاف کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔
شوبھیندو نے ملک کی نئی نسل کو خاندان کی ذمہ داری لینے کے ساتھ ساتھ ملک کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل کی۔ اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "اسرائیل میں ہر شخص کو کم سے کم فوجی تربیت لینی پڑتی ہے۔ بھارت ایک لبرل ملک ہے۔ امید ہے لبرل ہی رہے گا۔" وزیر اعلیٰ نے آنے والے دنوں میں ہر کالج اور اسکول میں این سی سی کو لازمی کرنے کی بات کہی۔ بتایا کہ اس ریاست میں این سی سی بند کر کے جے ہند بہینی شروع کی گئی تھی۔ یہ درست نہیں تھا۔ این سی سی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
جمعہ کی صبح شوبھیندو نے اپنے گھر سے ہی رکشا بندھن کا تہوار شروع کیا۔ گھر پر انہیں بندانگر پولیس کمشنریٹ کی ڈی سی نیو ٹاو¿ن ایشوریا ساگر نے راکھی باندھی، ان کے ساتھ آئی سی باگوئی آتی سنجے گھوش اور خواتین پولیس اہلکار موجود تھیں۔ اس کے بعد چنگڑی گھاٹا موڑ پر خواتین نے انہیں راکھی باندھی۔ شام کو وزیر اعلیٰ یادو پور یونیورسٹی کے سامنے 8B موڑ پر جائیں گے۔ وہاں 10 ہزار آوازوں میں 'بندے ماترم' گانے کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔

آزادی کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں، کشن جی لال سلام کیوں لکھا جا رہا ہے؟ شوبھندو ادھیکاری کا سوال...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn