National

سرپنج انتخاب میں تاریخی فیصلہ — پہلی بار سپریم کورٹ میں کھلی ای وی ایم، ہارا ہوا امیدوار فاتح قرار

سرپنج انتخاب میں تاریخی فیصلہ — پہلی بار سپریم کورٹ میں کھلی ای وی ایم، ہارا ہوا امیدوار فاتح قرار

پانی پت (ہریانہ) کے گاؤں بوانا لاکھو میں سرپنج کے عہدے پر انتخابی تنازع اس وقت نیا موڑ اختیار کر گیا جب سپریم کورٹ نے پہلی بار ای وی ایم کھول کر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی۔ رجسٹرار کی نگرانی میں ہونے والی گنتی میں پہلے شکست خوردہ قرار دیے گئے امیدوار موہت ملک کو 51 ووٹ سے فاتح قرار دیا گیا۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ دو دن کے اندر نوٹیفکیشن جاری کر کے موہت ملک کو حلف دلایا جائے۔ انتخابی کمیشن نے اس سے قبل کلدیپ کمار کو فاتح قرار دیا تھا۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے ای وی ایم اور تمام انتخابی ریکارڈ منگوا کر دوبارہ گنتی کرائی۔ دونوں امیدوار اس موقع پر موجود تھے اور پورے عمل کو ویڈیو ریکارڈ کیا گیا۔ ووٹوں کی گنتی کے بعد موہت ملک کی جیت کا باضابطہ اعلان ہوا۔ اس فیصلے نے ای وی ایم کے استعمال پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی اور کئی رہنماؤں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بوانا لاکھو گاؤں میں سرپنج کا انتخاب 2 نومبر 2022 کو ہوا تھا۔ ابتدائی نتیجے میں کلدیپ کمار کو فاتح قرار دیا گیا، مگر موہت ملک نے نتیجے کو چیلنج کرتے ہوئے ایڈیشنل سول جج (سینئر ڈویژن)-کَم-الیکشن ٹریبونل میں درخواست دی۔ 22 اپریل 2025 کو ٹریبونل نے ایک بوتھ پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا، جسے پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ نے 1 جولائی کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں گیا جہاں موہت ملک کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔ موہت ملک نے کہا کہ وہ آزادیٔ ہند کی سالگرہ سے پہلے حلف اٹھا لیں گے اور اس سلسلے میں مسلسل انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments