National

وزیر اعظم مودی کے سیمی کنڈکٹر والے دعوے کو کانگریس نے جھوٹا قرار دیا، کہا – ’چنڈی گڑھ میں پلانٹ 1983 سے فعال ہے‘

وزیر اعظم مودی کے سیمی کنڈکٹر والے دعوے کو کانگریس نے جھوٹا قرار دیا، کہا – ’چنڈی گڑھ میں پلانٹ 1983 سے فعال ہے‘

یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے خطاب میں سیمی کنڈکٹر صنعت کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا، ’’ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا خیال 50 سے 60 سال قبل سامنے آیا تھا لیکن اسے سیاست کے سبب آگے نہیں بڑھایا گیا اور یوں ملک نے قیمتی وقت گنوا دیا۔‘‘ اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ لال قلعہ سے کسی حکومت کی براہِ راست تنقید کرنے نہیں آئے لیکن ملک کے نوجوانوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ سیمی کنڈکٹر پر فائل ورک 50 سے 60 سال پہلے شروع ہوا تھا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ اس وقت ہی ختم کر دیا گیا اور یوں نصف صدی سے زیادہ کا قیمتی وقت ضائع ہو گیا۔ مودی نے کہا، ’’جب ہم ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں کی بات کرتے ہیں تو میں آپ کی توجہ سیمی کنڈکٹر کے معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ آج ہم اس بوجھ سے آزاد ہو کر مشن موڈ میں کام کر رہے ہیں۔ چھ مختلف سیمی کنڈکٹر یونٹس زمین پر اتر رہے ہیں اور چار نئے یونٹس کو پہلے ہی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس سال کے آخر تک ‘میڈ اِن انڈیا’ چپس مارکیٹ میں آ جائیں گی۔‘‘ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے وزیر اعظم کے اس بیان کو ’حقیر‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ’’مسٹر مودی کتنے بڑے جھوٹے ہیں اس کا ایک اور ثبوت مل گیا۔ چنڈی گڑھ میں قائم سیمی کنڈکٹر کمپلیکس لمیٹڈ نے 1983 میں ہی آپریشن شروع کر دیا تھا۔‘‘ جے رام رمیش کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر بحث تیز ہو گئی، جہاں کئی صارفین نے تاریخی حقائق اور پرانی رپورٹیں شیئر کر کے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی کوششیں چار دہائی قبل شروع ہو چکی تھیں۔ سیمی کنڈکٹر کمپلیکس لمیٹڈ (ایس سی ایل) کی بنیاد 1983 میں رکھی گئی تھی اور یہ ادارہ مائیکرو الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ بعد میں اس کا انتظام محکمہ خلائی امور (ڈیپارٹمنٹ آف اسپیس) کے ماتحت آ گیا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس دوران کئی تکنیکی اور پالیسی چیلنجز آئے لیکن یہ دعویٰ کہ ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں عملی قدم نہیں بڑھایا، حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان آئندہ انتخابات کے پیش نظر ٹیکنالوجی کے شعبے میں حکومت کی کارکردگی کو نمایاں کرنے اور مخالفین کو دفاعی پوزیشن میں لانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاہم، کانگریس کی جانب سے تاریخی حقائق پیش کرنے کے بعد اس معاملے پر سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments