آدھی رات کو دیوار توڑ کر گھر میں داخل ہو کر سوئی ہوئی خاتون کو قتل
نادیہ کے پھولیا میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے! دیوار توڑ کر گھر میں داخل ہو کر سوئی ہوئی خاتون کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ شانتی پور تھانے کے نوبلا گرام پنچایت کے پھولیا پرفلّ نگر علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے سے سنسنی پھیل گئی ہے۔ پچاس سال سے زائد عمر کی منیتی بسواس کے قتل کے معاملے میں پھولیا تھانے کی پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ خاتون کے ساتھ والے کمرے میں ان کا بیٹا اور بہو سو رہے تھے۔ اچانک انہیں چیخنے کی آواز سنائی دی۔ کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہی انہیں معلوم ہوا کہ دروازہ باہر سے بندھا ہوا ہے۔ کسی طرح دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ساتھ والے کمرے میں ان کی ماں بستر پر خون آلود حالت میں پڑی ہوئی ہیں۔ قریب ہی ایک اینٹ بھی پڑی تھی۔ بستر پر ٹوٹی ہوئی شاکھا کی چوڑیاں اور چہرے کے ٹوٹے ہوئے دانت بکھرے ہوئے تھے۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر بہو چیخنے لگیں۔ ان کی چیخ سن کر مقامی لوگ وہاں پہنچے۔ فوری طور پر خاتون کو نکال کر رانا گھاٹ سب ڈویڑنل اسپتال لے جایا گیا۔
مقتولہ کی بہو مومیتا بسواس نے بتایا کہ رات تقریباً ساڑھے 12 بجے ایک غیر معمولی آواز سن کر وہ کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق، اس کمرے میں دو جگہوں پر بڑے سائز کے سوراخ بھی کیے گئے تھے۔ تاہم خاندان کا دعویٰ ہے کہ گھر سے کوئی چیز چوری نہیں ہوئی۔
مقتولہ کی رشتہ دار اور پڑوس کی پنچایت رکن پربھا بسواس نے الزام عائد کیا کہ ایک شخص کی جانب سے دی گئی نازیبا پیشکش کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دشمنی کے باعث یہ قتل کیا گیا۔
خبر ملتے ہی پھولیا تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ اہل خانہ کے مطابق، خاتون کے شوہر پیشے سے وین رکشہ ڈرائیور ہیں اور رات کے وقت ایک ہوٹل میں کام کرتے ہیں۔ واقعے کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ الزام ہے کہ گھر کی دیوار میں سوراخ کرکے اندر داخل ہونے کے بعد سوئی ہوئی خاتون کے سر پر حملہ کیا گیا۔
یہ بھی الزام ہے کہ فرار ہوتے وقت حملہ آور موقع پر ایک درانتی چھوڑ گئے۔ خاتون پر حملہ کیوں کیا گیا، کیا کوئی شخص یا افراد چوری کے مقصد سے گھر میں داخل ہوئے تھے، یا پھر اس واقعے کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ پولیس تمام پہلوو¿ں کی جانچ کر رہی ہے۔
آدھی رات کو دیوار توڑ کر گھر میں داخل ہو کر سوئی ہوئی خاتون کو قتل...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments