سالٹ لیک سے خریدی گئی سینکڑوں سِم کارڈز کے ذریعے کروڑوں کی سائبر فراڈ
یہ سوال ریاستی پولیس کے ذرائع سے موصولہ ایک معلومات نے اٹھایا ہے۔ اس معلومات کے مطابق، سال کے آغاز سے 15 اگست تک سائبر فراڈ کی رقم 675 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ یہ رقم پہلے ریاست کے 1 لاکھ 72 ہزار اکاو¿نٹس میں پہنچی! تفتیش کاروں کی اصطلاح میں اسے پہلی سطح کے کرایے کے اکاو¿نٹس (فرسٹ لیئر میول اکاو¿نٹ) کہا جاتا ہے۔ اور اس فراڈ میں استعمال ہونے والے موبائل سِم کارڈز میں سے 414 صرف بندھن نگر علاقے سے خریدے گئے تھے!
ریاست میں سائبر فراڈ اور اس سے متعلقہ مختلف جرائم کو روکنے اور ان کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی فورس موجود ہے، جس کا نام سائبر کرائم ونگ (سی سی ڈبلیو) تھا۔ حال ہی میں ریاست میں نئی حکومت کے آنے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے S4C رکھ دیا گیا ہے، جو مرکز کی سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی خصوصی فورس '14C' کے مطابق ہے۔ ملک میں کوئی بھی سائبر فراڈ کا واقعہ پیش آتا ہے تو وہ 'نیشنل سائبر کرائم رپورٹ پورٹل' (این سی آر پی) پر درج ہوتا ہے، جو بھارت میں سائبر فراڈ سے متعلقہ جرائم کا مرکزی ڈیٹا بیس ہے۔ اس ڈیٹا بیس میں گزشتہ ساڑھے آٹھ ماہ میں ہونے والی مختلف فراڈ کی شکایات کا تجزیہ کر کے ریاستی پولیس کے جاسوسوں نے 675 کروڑ روپے کے فراڈ کا یہ حساب لگایا ہے!
فراڈ کی رقم کا یہ اعداد و شمار چونکا دینے والا ہے، اسی طرح 1 لاکھ 72 ہزار بینک اکاو¿نٹس کا اعداد و شمار بھی چونکا دیتا ہے! جاسوس ان اکاو¿نٹس کو فراڈ میں استعمال ہونے والی پہلی سطح کے اکاو¿نٹس قرار دے رہے ہیں۔ یعنی فراڈ ہونے کے بعد مقتول کے اکاو¿نٹ سے جو پہلا اکاو¿نٹ ہے جس میں رقم 'ٹرانسفر' ہوئی، اسے 'فرسٹ لیئر بینیفیشیئری' کہا جا رہا ہے۔ یہ تعداد 1 لاکھ 72 ہزار سے زیادہ ہے اور یہ تمام اکاو¿نٹس اسی ریاست کے ہیں۔ جاسوسوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اکاو¿نٹس بنیادی طور پر کرائے کے اکاو¿نٹس ہیں، جنہیں تفتیش کاروں کی اصطلاح میں 'میول اکاو¿نٹ' کہا جاتا ہے۔ فراڈ کرنے والے ان اکاو¿نٹس کو بھاری کرایہ دے کر کنٹرول کرتے ہیں۔ یہی بات جاسوسوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، کیونکہ براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر اس ریاست کے بہت سے لوگ سائبر کرائم سے منسلک ہو رہے ہیں۔ اسی طرح انہی کی دستاویزات استعمال کر کے سینکڑوں سِم کارڈز خریدے جا رہے ہیں، جو فراڈ کے کام آ رہے ہیں۔ جاسوسوں کو ایسے 414 سِم کارڈز کا پتہ چلا ہے جو فراڈ میں استعمال ہوئے ہیں۔ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بندھن نگر علاقے سے خریدے گئے تھے۔ جاسوسوں کو شبہ ہے کہ ایک یا ایک سے زیادہ منظم سائبر کرائم گروہ کام کر رہے ہیں، جو بندھن نگر کو مرکز بنا کر اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر گزشتہ اتوار کو بندھن نگر سائبر کرائم تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ سائبر جاسوسوں کا کہنا ہے کہ یہ منظم گروہ شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے عوض بھاری منافع کا لالچ دینے سے لے کر ڈیجیٹل گرفتاری جیسے فراڈ میں ملوث ہیں۔
Source: Admin
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
11 months ago
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
11 months ago
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی
5 months ago
الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کو ہٹا دیا
5 months ago
اس بار بھی بنگال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں! ممتا بنرجی کی پھر سے ہو گی جیت
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments