Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Bengal

چنتا کرشنا داس کی والدہ کے انتقال پر انسانی المیہ: آئی ایس ایف رکن اسمبلی نوشاد صدیقی کی بنگلہ دیشی حکومت پر سخت تنقید

Admin
By Admin
Sep 12, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

چنتا کرشنا داس کی والدہ کے انتقال پر انسانی المیہ: آئی ایس ایف رکن اسمبلی نوشاد صدیقی کی بنگلہ دیشی حکومت پر سخت تنقید
چنتا کرشنا داس کی والدہ کے انتقال پر انسانی المیہ: آئی ایس ایف رکن اسمبلی نوشاد صدیقی کی بنگلہ دیشی حکومت پر سخت تنقید — September 12, 2026
ڈھاکہ/کولکتہ: بنگلہ دیش میں جیل میں قید ہندو سادھو چنتا کرشنا داس کی والدہ سندھورانی داس کے انتقال اور آخری رسومات کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعے پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بیمار ماں کے آخری دیدار سے محروم رہنے اور پیرول مسترد ہونے کے بعد ماں کے انتقال پر چنتا کرشنا داس کو صرف پانچ گھنٹے کی محدود رہائی ملنے اور ان کی جانب سے لاش سے لپٹ کر رونے کی وائرل تصاویر نے انسانی حقوق پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس پورے معاملے پر مغربی بنگال کی انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے بنگلہ دیشی حکومت کے کردار کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔

نوشاد صدیقی کے سخت تبصرے اور انسانی حقوق کا سوال:

سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں نوشاد صدیقی نے کہا کہ "جنوبی ایشیا میں اقلیت ہو کر پیدا ہونا شاید سب سے بڑا جرم ہے۔" ان کے مطابق یہ واقعہ موجودہ جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی زبوں حالی کا ایک انتہائی رحم طلب اور تلخ عکاس ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ چنتا کرشنا داس کے خلاف الزامات موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود قانون اور نظام کو کم از کم انسانی وقار کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ نوشاد نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایک ملزم سب سے پہلے انسان ہے، اور انسانی حقوق اس کا بنیادی حق ہیں۔"

بنگلہ دیش میں اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں پر مبینہ مظلومیت اور مسلسل حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے اس کے خلاف احتجاجات اور آواز بلند کرنا مکمل طور پر درست ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی سلامتی، مذہبی آزادی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔

بھارت کے اندرونی حالات پر بھی دو ٹوک سوال:

تاہم، اس معاملے پر بات کرتے ہوئے بھانگڑ کے اس نوجوان مسلم قانون ساز نے ہندستان کی پالیسی اور اخلاقیات کے دوہرے معیار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات کا یہی پیمانہ ہندستان کے معاملے میں بھی استعمال ہونا چاہیے، ورنہ ایسا محسوس ہوگا کہ انسانی حقوق کے مسائل کو محض جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے سال 2020 سے دہلی فسادات کی سازش کے کیس میں گرفتار شرجیل امام اور عمر خالد کی مسلسل حراست اور سپریم کورٹ سے بھی ضمانت مسترد ہونے کا حوالہ دیا۔

ڈھاکہ/کولکتہ: بنگلہ دیش میں جیل میں قید ہندو سادھو چنتا کرشنا داس کی والدہ سندھورانی داس کے انتقال اور آخری رسومات کے دوران پیش آنے والے دلخراش واقعے پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn