'اسکول کا کام سنبھال کر مردم شماری کیسے کریں گے؟' مردم شماری میں اساتذہ کی تعیناتی پر ہائی کورٹ کا سوال
مردم شماری کے کام کے لیے اساتذہ کی تعیناتی میں منصوبہ بندی کی کمی پر عدالت ناخوش ہے۔ جمعہ کو مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راو¿ کی بنچ نے پوچھا کہ اساتذہ اسکول سنبھال کر مردم شماری کا کام کیسے کریں گے؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا روزانہ 40 کلومیٹر کا سفر کر کے یہ کام ممکن ہے؟
مردم شماری کے کام میں اساتذہ کی تعیناتی پر تناو¿ رہا ہے۔ اسکول تعلیم محکمے نے بتایا کہ اساتذہ اسکول کے بعد یا ہفتے کے آخر میں چھٹی کے دن مردم شماری کا کام کر سکتے ہیں۔ اس ہدایت کے بعد اساتذہ کے ایک طبقے میں غصہ بڑھنے لگا۔ اس کے بعد 31 پرائمری اساتذہ نے اسکول کے اساتذہ کے مردم شماری کے کام کو ڈیوٹی کے طور پر شمار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کولکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ اسی مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راو¿ نے سوال کیا، "اساتذہ کب اسکول کریں گے اور کب مردم شماری کا کام؟" مردم شماری کے کام میں اساتذہ کی تعیناتی سے قبل ان کے بائیو ڈیٹا سے متعلق معلومات کی تصدیق پر بھی عدالت نے ریاست سے سوال کیا۔ جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اساتذہ کہاں سے کام پر آ رہے ہیں، ان کا اسکول کہاں ہے، روزانہ کتنا فاصلہ طے کرتے ہیں — ان پہلوو¿ں کا پہلے جائزہ لینا چاہیے تھا۔
عدالت کا مشاہدہ تھا کہ مردم شماری کا کام ہمیشہ اسکول کے قریب نہیں ہوگا۔ شام 4 بجے اسکول کی چھٹی ہونے پر دوسری جگہ جا کر کام کر کے وہ کب گھر واپس آئیں گے، یہ بھی ایک سوال ہے۔ ریاست کی طرف سے کہا گیا کہ مردم شماری ایک انتہائی اہم سرکاری کام ہے۔ اساتذہ ہمیشہ شام 4 بجے تک اسکول میں نہیں رہتے۔ دوسری طرف جسٹس راو¿ نے اساتذہ کو ایک ساتھ بڑی تعداد میں مردم شماری کے کام پر نہ بھیج کر متبادل انتظامات کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق، 4-5 افراد کو باری باری بھیجا جا سکتا ہے، جس سے اسکول کی تعلیم میں خلل نہیں آئے گا اور مردم شماری کا کام بھی جاری رہے گا۔ آج مقدمہ دائر کرنے والوں کی طرف سے عدالت میں اپنی تمام معلومات جمع کرانے کی بات ہے۔ وہ کہاں رہتے ہیں، کس اسکول میں ملازم ہیں، اسکول کا وقت کیا ہے — یہ تمام معلومات جمع کر کے ایس جی کو دی جائیں گی۔ مقدمہ دائر کرنے والے اساتذہ کی دی گئی معلومات کا جائزہ لے کر انہیں مردم شماری کے کام میں کیسے استعمال کیا جائے گا، اس بارے میں ریاست کو آئندہ منگل کو عدالت کو آگاہ کرنا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
10 months ago
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
11 months ago
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
11 months ago
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
11 months ago
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
11 months ago
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
10 months ago
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
11 months ago
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
11 months ago
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی
4 months ago
الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کو ہٹا دیا
5 months ago
اس بار بھی بنگال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں! ممتا بنرجی کی پھر سے ہو گی جیت
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments