الیکشن کمشنرسکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گیانیش کمار کے فیصلوں پر اٹھائے سوالات
ملک کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اہم فیصلے دو دیگر الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو اعتماد میں لیے بغیر کر رہے ہیں—یہ الزام دونوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے لگائے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ بدھ کو شائع ہونے والی دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 10 ماہ کے دوران سندھو اور جوشی نے کمیشن کے فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باقاعدہ اعتراض درج کیا۔ ایک ہی دن میں کسی فیصلے اور ہدایات سے متعلق چار مرتبہ اعتراض بھی درج کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں کا کہنا تھا کہ ان کے اعتراضات کو اہمیت نہیں دی گئی۔دونوں کمشنروں نے الزام لگایا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویڑن (SIR) کے دوران انہیں اعتماد میں لیے بغیر ووٹر لسٹ میں نئے نام شامل کرنے اور نام حذف کرنے سے متعلق اقدامات کیے گئے۔ نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے کو دونوں کمشنروں نے ”غیر مجاز“ اور ”غیر قانونی“ قرار دیا۔ ان کے اعتراضات میں ووٹر لسٹ کی شفافیت، SIR کے بعد ناموں کو حذف کرنے اور نئے نام شامل کرنے کے طریق کار سمیت کئی معاملات شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق، ووٹر لسٹ میں نیا نام شامل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں SIR سے متعلق ایک نیا سوال شامل کیا گیا۔ نئے ووٹروں سے پوچھا جانے لگا کہ آیا ان کا، ان کے والدین یا دادا دادی کا نام گزشتہ SIR کی ووٹر لسٹ میں موجود تھا۔ وویک جوشی نے مئی میں اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانونی طور پر مقرر فارم 6 میں حکومت کی جانب سے متعلقہ قواعد میں ترمیم کے بغیر تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ سندھو نے بھی اس اعتراض سے اتفاق کیا تھا۔13 اگست کو سندھو نے فارم 6 میں کی گئی اس تبدیلی کو ”غیر مجاز اور غیر قانونی“ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کی بات کہی تھی۔
دونوں کمشنروں نے ووٹر لسٹ کے ڈیٹا تک رسائی کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر لسٹ کی تیاری کا عمل بنیادی طور پر الیکٹورل رجسٹریشن افسران (EROs) کے ذریعے نچلی سطح پر کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھو اور جوشی نے سوال اٹھایا کہ آیا EROs کی ووٹر ڈیٹا تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے آئی ٹی نظام میں ووٹر ڈیٹا کے بتدریج مرکزیت اختیار کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھو نے الیکشن کمیشن کی آئی ٹی ڈویڑن کی ڈائریکٹر جنرل سیما کھنہ کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ریاستی انتخابی حکام نے ERONet تک مناسب اور مکمل رسائی نہ ہونے کی شکایت کی تھی، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر مقرر حکام کی رسائی محدود کرنے کا اختیار آئی ٹی ڈویڑن کے پاس نہیں ہے۔
مغربی بنگال میں SIR کے بعد ووٹر لسٹ سے متعلق بڑی تعداد میں درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، اس معاملے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مختلف وضاحتیں اور دونوں کمشنروں کے سوالات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس بارے میں دی انڈین ایکسپریس نے الیکشن کمیشن سے سوالات کیے تھے، لیکن رپورٹ کی اشاعت تک کمیشن کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
آئینی طور پر الیکشن کمیشن چیف الیکشن کمشنر اور دو دیگر الیکشن کمشنروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ موجودہ تنازع میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ تین رکنی کمیشن کے اندر فیصلے کس طریقے سے کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے وابستہ ذرائع نے بدھ کو ان الزامات کے جواب میں کہا کہ SIR سمیت کمیشن کے تمام فیصلوں کو تینوں کمشنروں کی منظوری حاصل تھی اور فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے۔
موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی تقرری 2023 کے قانون کے تحت قائم انتخابی عمل کے ذریعے ہوئی تھی۔ 2024 میں سندھو اور گیانیش کمار کی تقرری کے وقت اس وقت کے اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اختلاف ظاہر کیا تھا، جبکہ 2025 میں گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر اور وویک جوشی کو الیکشن کمشنر بنائے جانے پر اس وقت کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی اختلاف درج کیا تھا۔
الیکشن کمشنرسکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گیانیش کمار کے فیصلوں پر اٹھائے سوالات...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments