انتخابی فہرست میں نام درج کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا
انتخابی فہرست میں نام درج کرنے کے لیے جلد سماعت کو یقینی بنانے کی خاطر الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مزید 21 ٹریبونلز تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹریبونلز کے ججوں کو ٹیکنالوجی کی سہولت کے ذریعے سماعت مکمل کرنے کے لیے ایک نیا سافٹ ویئر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
ووٹر فہرست میں ترمیم کو لے کر ریاست میں تنازع جاری ہے۔ ٹریبونلز جس رفتار سے کام کر رہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے تمام سماعتیں مکمل کرکے سبھی کے نام ووٹر فہرست میں شامل کرنے میں کم از کم 12 سال لگ جائیں گے، قومی الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو یہ اطلاع دینے کے ساتھ ہی ٹریبونلز کا کام جلد مکمل کرنے کے لیے کمیشن بھی سرگرم ہوگیا ہے۔ ریاست میں موجود 19 الیکٹورل رجسٹریشن ٹریبونلز کی تعداد بڑھا کر براہِ راست 42 کرنے کی تجویز پیش کرنے کے لیے کمیشن نے تمام تیاریاں شروع کردی ہیں۔ یعنی ہر لوک سبھا حلقے کے لیے ایک ٹریبونل قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
تاہم کمیشن صرف ٹریبونلز کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہ رہا۔ عدالتی کارروائی کو ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے لیے ’لوکیشن ایگناسٹک‘ سافٹ ویئر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے ٹریبونل کے جج کسی مخصوص عمارت میں موجود ہوئے بغیر کسی بھی مقام سے سماعت کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ دستاویزات کی جانچ بھی کرسکیں گے اور درخواستوں کے نمٹارے کے احکامات بھی جاری کرسکیں گے۔ یعنی ٹریبونل کی کارروائی اب چار دیواری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل ہوجائے گی۔
انتخابی فہرست میں نام درج کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments