National

بی ایم سی الیکشن کے لئے این سی پی نے نواب ملک کو سونپی بڑی ذمہ داری، الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے سابق وزیر

بی ایم سی الیکشن کے لئے این سی پی نے نواب ملک کو سونپی بڑی ذمہ داری، الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے سابق وزیر

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات 2025 کی تیاریوں کے درمیان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سابق وزیراورسینئرلیڈرنواب ملک کوممبئی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کا چیئرمین مقررکیا ہے۔ اس اہم ذمہ داری کا اعلان این سی پی کے ریاستی صدراوررکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے کیا۔ نواب ملک کویہ ذمہ داری پارٹی کے قومی صدراورنائب وزیراعلیٰ اجیت پوار اورریاستی صدرسنیل تٹکرے کی رضامندی سے دی گئی ہے۔ نواب ملک اس سے قبل، این سی پی ممبئی کے صدرکے طورپرپارٹی کی قیادت کرچکے ہیں اورانہیں ایک تجربہ کار، نچلی سطح کے اوربااثرلیڈرکے طورپردیکھا جاتا ہے۔ نواب ملک کی قیادت میں تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں این سی پی کے کئی سرکردہ لیڈران شامل ہیں۔ ان میں ممبئی کے ورکنگ صدر شیواجی راؤ نلاؤڑے اورسدھارتھ کامبلے، ایم ایل اے ثنا ملک، سابق ایم ایل اے ذیشان صدیقی، ریاستی جنرل سکریٹری سنتوش دھووالی، ریاستی نائب صدربھاسکروچارے، ریاستی ترجمان سنجے تٹکرے اورسینئرعہدیدار راجوگھُگے کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ممبئی سے مہیندرپنسارے، شمال مغرب سے اجے وچارے، شمال وسطی سے ارشد امیر، شمالی ممبئی سے اندرا پال سنگھ اورشمال مشرق سے سریش بھال راؤکوبھی مدعو اراکین کے طورپرکمیٹی میں جگہ دی گئی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کل 227 سیٹیں ہیں۔ 2017 کے انتخابات میں شیوسینا نے 84 اوربھارتیہ جنتا پارٹی نے 82 سیٹیں جیتی تھیں، جبکہ کانگریس کو31، این سی پی کو9 اورایم این ایس کو7 سیٹیں ملی تھیں۔ یہ انتخاب شیوسینا اوربی جے پی کے درمیان قریبی مقابلہ تھا، لیکن کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی۔ ایسے میں 2025 کا بی ایم سی الیکشن بھی دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست میں بڑا بھونچال 2023 میں آیا، جب اجیت پوار نے شرد پوارکی قیادت والی این سی پی سے بغاوت کرکے شندے-فڑنویس حکومت کی حمایت کردی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے اجیت پوارگروپ کو’اصلی این سی پی‘ مانتے ہوئے پارٹی کا نام اورانتخابی نشان انہیں سونپ دیا۔ وہیں، شرد پوارکا گروپ اب مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے ساتھ کھڑا ہے، جس میں شیوسینا (یوبی ٹی) اور کانگریس شامل ہیں۔ شیوسینا بھی پہلے ہی دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا اقتدار میں ہے جبکہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یوبی ٹی) اپوزیشن میں۔ ان تقسیم کے سبب بی ایم سی الیکشن میں اتحاد کی سیاست اور سیٹوں کی تشکیل بے حد پیچیدہ ہوگیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments