کاکروچ کے پیچھے ملک مخالف طاقتیں کام کر رہی ہیں: سمیک بھٹاچاریہ
”نقاب پہن کر ملک مخالف طاقتیں کام کر رہی ہیں۔ مایوسی کے سبب احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مردہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔“ مہالیا کی صبح باگ بازار گھاٹ پر ترپن کرنے کے بعد دہلی کے جنتر منتر پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک پر مغربی بنگال بی جے پی کے صدر شمیک بھٹاچاریہ نے ان الفاظ میں تنقید کی۔
ہفتے کے روز دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’کاکروچ‘ سڑکوں پر اترے۔ اس احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی کو عملاً ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اس معاملے پر کولکاتا میں شمیک بھٹاچاریہ نے کہا کہ جمہوری ملک میں ہر شخص کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن غیر متعلقہ طاقتیں خود کو متعلقہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”آج کا احتجاج مایوسی کا نتیجہ ہے۔ حکومتِ ہند اس معاملے پر نظر رکھ رہی ہے۔ نقاب پہن کر ملک مخالف طاقتیں کام کر رہی ہیں۔ ہمارے پاس بھی اس سلسلے میں اطلاعات ہیں۔ گزشتہ احتجاج کو انہوں نے ہنستے مسکراتے واپس لے لیا تھا۔“
اس دن شمیک بھٹاچاریہ نے ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدرِ جمہوریہ سے انڈیا اتحاد کی ملاقات کے معاملے پر انہوں نے کہا، ”ایک نیم مردہ پارٹی، ایک مردہ پارٹی کے ساتھ مل کر ناکام کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔“
دیوی پکش کے آغاز کے موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بنگال میں موجود نہ ہونے کے بارے میں شمیک نے کہا، ”دیوی پکش کے آغاز کے وقت سابق وزیر اعلیٰ کولکاتا میں نہیں ہیں، وہ دہلی چلی گئی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہاں رہیں اور مختلف درگا پوجا پنڈالوں میں جائیں۔ ہم انہیں ایسا کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ترنمول کے بڑے رہنما سب کہاں چلے گئے ہیں؟“
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’کاکروچ‘ تنظیم نے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن اس کے باوجود ’کاکروچ‘ تنظیم جنتر منتر پر اپنا پروگرام کر رہی ہے۔
وسطی دہلی کے کئی علاقوں میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، ہفتے کے روز احتجاج کے دوران کسی بھی طرح کے تشدد کو روکنے کے لیے یہ احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔
جن پتھ اور کرتویہ پتھ کے چوراہے کے چار کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے تمام علاقوں میں 24 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ خدمات بند کی جا رہی ہیں۔ یہ خدمات 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک بند رکھی جا رہی ہیں۔ ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ پورے شہر میں کم از کم 26 ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، ’کاکروچ‘ تنظیم کے رہنما ابھیجیت دیپ، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو طیارے ہی میں حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں جنتر منتر پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر ان رہنماو¿ں کو طیارے میں ہی حراست میں لیا گیا۔
کاکروچ کے پیچھے ملک مخالف طاقتیں کام کر رہی ہیں: سمیک بھٹاچاریہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments