Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

Bengal

امت شاہ نے ہوڑہ میں دنیا کے سب سے بڑے دہی پیدا کرنے والے پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھا

امت شاہ نے ہوڑہ میں دنیا کے سب سے بڑے دہی پیدا کرنے والے پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھا

کولکاتہ، 19 جولائی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کے روز ہوڑہ میں 'امول بنگال ڈیری پروجیکٹ' کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تقریباً 700 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والا یہ مربوط ڈیری کمپلیکس دنیا کا سب سے بڑا دہی پیدا کرنے والا پلانٹ بننے جا رہا ہے ۔اس منصوبے سے مغربی بنگال کے ڈیری انفراسٹرکچر کو مضبوطی ملنے کے ساتھ ساتھ ریاست بھر کے 1.25 لاکھ سے زائد ڈیری کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے ۔ امت شاہ نے نیو ٹا¶ن کے بِسوا بنگلہ کنونشن سینٹر سے ورچوئل ذریعے سے اس منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری، گجرات کوآپریٹو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن (جی سی ایم ایم ایف) کے سینئر عہدیداران، جو امول برانڈ کے تحت ڈیری مصنوعات کی مارکیٹنگ کرتے ہیں، اور ریاستی کابینہ کے ارکان بھی موجود تھے ۔ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ منصوبہ کوآپریٹو ماڈل کے ذریعے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا، ''دودھ پیدا کرنے والوں کی مستقل آمدنی کو یقینی بنانے اور ملک کے ڈیری نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوآپریٹو تحریک کو فروغ دینا ضروری ہے ۔ یہ منصوبہ دیہی ترقی اور زرعی پیداوار میں قدر افزائی (ویلیو ایڈیشن) کی سمت ایک اہم قدم ہے ۔'' ہوڑہ کے سنکرائل فوڈ پارک میں قائم کیے جانے والے اس ڈیری کمپلیکس میں روزانہ تقریباً 30 لاکھ لیٹر دودھ پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ پلانٹ یومیہ تقریباً ایک ہزار ٹن دہی اور دیگر خمیر شدہ ڈیری مصنوعات تیار کرے گا، جس کے بعد یہ دنیا کا سب سے بڑا دہی تیار کرنے والا پلانٹ بن جائے گا۔ مغربی بنگال کی مقبول ترین ڈیری مصنوعات میں شامل میٹھا دہی اس منصوبے کی بنیادی پیداوار ہوگا، جبکہ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی دیگر ڈیری مصنوعات بھی تیار کر کے ملک بھر میں سپلائی کی جائیں گی۔ یہ منصوبہ ریاست میں ڈیری انفراسٹرکچر کو فروغ دینے ، ویلیو ایڈڈ ڈیری پروسیسنگ کو مضبوط بنانے اور کوآپریٹو ڈیری نیٹ ورک کو وسعت دینے کے مقصد سے تیار کیا جا رہا ہے ۔سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے 1.25 لاکھ سے زائد ڈیری کسانوں، جن میں 30 ہزار سے زیادہ خواتین دودھ پیدا کرنے والی کسان بھی شامل ہیں، کو فائدہ ہوگا۔ انہیں دودھ کی فروخت کے لیے مستقل منڈی اور بہتر خریداری کا نظام میسر آئے گا۔ وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے اس منصوبے کو مغربی بنگال میں "امول انقلاب" کے دوسرے مرحلے اور ریاست کی "سفید انقلاب" قرار دیا۔انہوں نے کہا، ''یہ ڈیری منصوبہ مقامی مویشی پالنے والوں اور دودھ پیدا کرنے والوں کو بہتر منڈی، دودھ کی یقینی خرید اور زیادہ معاشی مواقع فراہم کرے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ اس منصوبے سے وابستہ کوآپریٹو نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں ڈیری کسانوں کو جوڑا جائے ۔ پلانٹ کے فعال ہونے کے بعد تقریباً 36 لاکھ مویشی پالنے والوں کو براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ پہنچے گا۔'' دیہی معیشت کی ترقی میں مضبوط کوآپریٹو اداروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کسان خاندانوں کی معاشی حالت مزید مستحکم ہوگی۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ دودھ کی خریداری اور ڈیری پروسیسنگ کی صلاحیت میں مزید اضافے کے لیے شمالی بنگال میں بھی امول کا ایک نیا ڈیری منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے امول سے آئندہ برسوں میں ریاست میں آئس کریم تیار کرنے والے پلانٹس قائم کرنے پر بھی غور کرنے کی اپیل کی۔ گزشتہ ریاستی حکومت کا نام لیے بغیر شوبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ یہ نیا منصوبہ مغربی بنگال میں بہتر ہوتے صنعتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے اور ریاست میں صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے ۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments