National

’اب ساری قلعی کھل جائے گی‘، 65 لاکھ ووٹرس معاملے پر ’سپریم‘ ہدایت سے کانگریس اور آر جے ڈی دونوں خوش

’اب ساری قلعی کھل جائے گی‘، 65 لاکھ ووٹرس معاملے پر ’سپریم‘ ہدایت سے کانگریس اور آر جے ڈی دونوں خوش

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے ذریعہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ مہادیو پورا اسمبلی حلقہ کے اعداد و شمار سامنے رکھ کر انھوں نے کئی انکشافات کیے تھے، اور پھر کچھ دیگر ریاستوں سے بھی مبینہ ’ووٹ چوری‘ کی خبریں سامنے آنی شروع ہو گئیں۔ خاص طور سے بہار میں ووٹرس کی خصوصی گہری نظرثانی کے بعد جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ نے تو الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں ہی کھڑا کر دیا ہے۔ اس ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں موجود خامیوں کو لے کر اپوزیشن پارٹیاں عدالت تو پہنچ ہی گئی ہیں، خصوصاً کانگریس سوشل میڈیا کا استعمال کر الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانے پر لے رہی ہے۔ اس درمیان آج سپریم کورٹ نے ایک اہم عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ معاملہ بہار کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے جڑا ہوا ہے جس سے متعلق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہٹائے گئے سبھی 65 لاکھ ووٹرس کا ڈاٹا منظر عام پر لایا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے اس حکم کو کانگریس اور آر جے ڈی دونوں نے ہی اپنی فتح قرار دیا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے بہار میں جن 65 لاکھ لوگوں کے نام کاٹے گئے، ان کے نام بتائے جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے کہ ان کے نام کیوں کاٹے گئے؟ آدھار کارڈ کو بھی درست دستاویز کے طور پر رکھا جائے۔‘‘ کانگریس نے آگے لکھا کہ ’’اب الیکشن کمیشن کی دھاندلی کھل کر سامنے آئے گی۔ ایس آئی آر کے نام پر جو ووٹ چوری کا کھیل کیا گیا ہے، اس کی ساری قلعی کھل جائے گی۔‘‘ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’سپریم کورٹ نے آج اپنے واضح، ٹھوس اور جرأت مندانہ فیصلہ سے ہندوستان اور آئین کی حفاظت کی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہماری جمہوریت کو وزیر اعظم اور ان کے لیے ڈھول پیٹنے والوں کی سازشوں سے بچانے کی ایک طویل لڑائی ہے، لیکن بہار ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ امید کی ایک شمع ہے۔ یہ پہلا بڑا قدم ہے۔‘‘ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بہار اسمبلی میں اپوزیشن رہنما اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایس آئی آر کو لے کر ہم تمام اپوزیشن پارٹیوں نے سڑک سے لے کر اسمبلی و پارلیمنٹ تک لڑائی لڑی ہے۔ سپریم کورٹ کا جو آج فیصلہ آیا ہے، بھلے ہی وہ عبوری ہے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جیت ہوئی ہے۔ ایس آئی آر پر جو ہمارا مطالبہ تھا، اس پر سپریم کورٹ نے مہر لگا دی ہے، یہ انصاف کی جیت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن جس چیز کو چھپانے کا کام کر رہا تھا، اس کو سپریم کورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔ عبوری فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ آدھار کارڈ کو قبول کرنا لازمی ہے۔ جو 65 لاکھ نام حذف کیے گئے ہیں ان کی فہرست بوتھ سطح پر منظر عام پر لانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے وجہ بتانے کے لیے کہا ہے کہ آخر ناموں کو کیوں حذف کیا گیا۔ کون مر چکا ہے اور کس تک رسائی نہیں ہو پائی ہے، یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کو بتانا ہوگا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments