مڈ ڈے میل میں پلیٹ میں پڑے تال کے بڑے، فلوری، لوچی! بچوں نے چاٹ کر کھایا
مڈ ڈے میل میں بچوں کو متوازن کھانا دینے کے لیے شوبھیندو ادھیکاری کی حکومت پہلے ہی متعدد فیصلے لے چکی ہے۔ مڈ ڈے میل میں مختص رقم بڑھا دی گئی ہے۔ 10 روپے کر دی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں، کولکتہ سمیت متعدد اضلاع میں مڈ ڈے میل کے کھانے کی فراہمی کی ذمہ داری اسکون کو سونپی گئی ہے۔ اس کے مطابق بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس بار چاول، دال، سبزی کے ساتھ ساتھ پلیٹ میں تال کے بڑے، لوچی اور فلوری بھی پڑے۔ اور اسے مشرقی بردوان کے آوش گرام کے شیودا پرائمری اسکول کے بچوں نے بالکل چاٹ کر کھایا۔
ضلع کا ایک دور افتادہ اسکول شیودا نیم بنیادی اسکول ہے۔ فی الحال طلباء کی تعداد 229 ہے۔ پانچ اساتذہ ہیں۔ پانچویں جماعت تک تعلیم ہوتی ہے۔ معمول کے مطابق بچوں کو مڈ ڈے میل میں چاول، دال، سبزی دی جاتی ہے۔ ایک دن اور کچھ کیا جا سکتا ہے! چنانچہ اساتذہ نے 'تال اتسو' منانے کا فیصلہ کیا۔ دراصل بھادرو ماہ یعنی تال پکنے کا موسم ہے۔ بنگال کے دیہی علاقوں کے اس روایتی پھل کے گرد گم ہوتی ہوئی مختلف ڈشوں سے بچوں کو متعارف کرانے کے لیے ایک انوکھا اقدام کیا گیا۔ اور اسی وجہ سے گزشتہ ہفتہ کو مڈ ڈے میل کے ساتھ ہی بچوں کو تال کی فلوری، لوچی سے لے کر بڑے جیسی گھریلو مختلف ڈشیں دی گئیں۔
اسکول کے پرنسپل سومین پانجا نے کہا، ''یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وقتاً فوقتاً خاص دنوں میں دوپہر کے کھانے کی پلیٹ میں کوئی خاص ڈش رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تال کے موسم میں اس بار بچوں کو تال کی مختلف ڈشیں کھلائی گئی ہیں۔'' پرنسپل کے مطابق، مڈ ڈے میل کے کھانے پکانے والی چاروں خواتین نے تال کی فلوری، تال کی لوچی، تال کے بڑے سمیت یہ کھانے تیار کیے۔ اس انوکھے تہوار میں نہ صرف بچے خوش ہیں، بلکہ اساتذہ بھی پرجوش ہیں۔ ان کے مطابق، صرف غذائیت سے بھرپور کھانا پیش کرنا ہی نہیں، بلکہ مقامی ثقافت اور دیہی بنگال کی گم ہوتی ہوئی کھانے کی روایت سے نئی نسل کو متعارف کرانا بھی ضروری ہے۔ اسی سوچ سے تال اتسو کا اہتمام کیا گیا۔
مڈ ڈے میل میں پلیٹ میں پڑے تال کے بڑے، فلوری، لوچی! بچوں نے چاٹ کر کھایا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments