عید الاضحیٰ سے قبل مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت کی جانب سے گائے اور بھینس کے ذبیحہ پر عائد کردہ پابندیوں کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں متعدد مفادِ عامہ کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران جمیعت علماءکے وکیل اور سینئر ایڈووکیٹ وکاش رنجن بھٹاچاریہ اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے سخت دلائل دیے گئے، جس پر ہائی کورٹ نے بھی اہم مشاہدات کیے۔ریاست میں بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد سے 1950 کے اینیمل پریزرویشن ایکٹ کو سختی سے نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت اب صرف 14 سال سے زائد عمر کے یا مستقل طور پر معذور مویشیوں کو ہی ذبح کرنے کے لیے 'فٹ' مانا جائے گا۔ جمیعت علماءکے وکیل وکاش رنجن بھٹاچاریہ نے حکومت کے نوٹیفکیشن اور 1950 کے قانون دونوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے درج ذیل دلائل دیتے ہوئے وکاش بھٹاچاریہ نے دلیل دی کہ "اگر کوئی قانون طویل عرصے تک نافذ نہ کیا جائے، تو اس کی افادیت اور اثر ختم ہو جاتا ہے۔" انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قانون ماضی میں کبھی اس طرح نافذ ہی نہیں تھا۔ ہائی کورٹ کا سخت جواب: ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے ریمارک دیا، "اگر یہ قانون نافذ نہیں تھا، تو اتنے سارے مقدمات دائر کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ حکومت ہر سال اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرتی رہی ہے، تو یہ کہنا کیسے درست ہے کہ قانون نافذ نہیں تھا؟ وکاش بھٹاچاریہ نے مزید کہا کہ 1950 کا قانون زراعت کے تحفظ کے لیے لایا گیا تھا، لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے زراعت گائے یا بھینسوں پر منحصر نہیں ہے۔ اب ریاست میں مویشیوں کی تعداد اور دودھ کی پیداوار میں صحت مند اضافہ ہوا ہے، اس لیے اس پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قانون صرف 1952 کی پرانی میونسپل حدود (جیسے کولکتہ اور کالیمپونگ) تک محدود ہونا چاہیے، پنچایتوں میں نہیں۔عدالت میں مختلف فریقین کی جانب سے الگ الگ پہلووں پر روشنی ڈالی گئی۔ وکاش رنجن بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ لوگ یہاں کسی نمائش کے لیے نہیں آئے ہیں۔ گائے کے بازار (مویشی ہاٹ) بند ہو چکے ہیں اور صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ دکانیں بھی بند ہو رہی ہیں۔ لوگ اپنی مذہبی رسومات ادا نہ کر پانے کی وجہ سے مشکل ترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر مذہبی انسان نہیں ہوں، لیکن عام لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے مویشی تاجروں کو بھی بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں ذبیحہ کے لیے 'فٹنس سرٹیفکیٹ' حاصل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ اگر کسی جانور کو ذبح کرنے کے لیے موزوں قرار دے بھی دیا جائے، تو اسے میونسپلٹی سے منظور شدہ مذبح خانوں میں ہی ذبح کیا جا سکتا ہے۔ مغربی بنگال میں ایسے کتنے مراکز موجود ہیں، اس پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ محمد جعفر یاسنی کے وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق ذبیحہ کے لیے 'فٹنس سرٹیفکیٹ' لازمی ہے، لیکن پورے بنگال میں یہ سرٹیفکیٹ دینے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹروں اور ضروری بنیادی ڈھانچے کا شدید فقدان ہے۔ عید 28 مئی کو ہے اور حکومت نے 13 مئی کو اچانک یہ نوٹس جاری کر دیا۔ ایک گائے کی اوسط عمر ہی 15 سال ہوتی ہے، ایسے میں اچانک 14 سال سے بڑی گائے کہاں سے لائی جائے گی؟ محمد شکیل وارثی کے وکیل سبیاساچی چٹرجی نے کہا کہ جن لوگوں نے عید کے لیے پہلے ہی مویشی خرید لیے ہیں، ان کے لیے قانون میں نرمی کی جائے اور اس نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا جائے کیونکہ اس سے مویشی تاجروں کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے اور بازار بند ہو رہے ہیں۔مغربی بنگال میں نئی حکومت کے اس فیصلے کے بعد عید پر قربانی کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ قانون کے مطابق اب بغیر انتظامیہ کی تحریری اجازت اور لوکل باڈی یا محکمہ حیوانات کے فٹنس سرٹیفکیٹ کے کسی بھی بڑے جانور کا ذبیحہ غیر قانونی مانا جائے گا۔ عدالت اس معاملے کی مزید سماعت کر رہی ہے۔
Source: PC-anandabazar
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
کلکتہ میں قدرتی آفت!بھاری بارش سے تعداد اموات نو ہوگئی، عام زندگی ٹھپ
اگر 32,000 نوکریاں منسوخ ہو جاتی ہیں تو باقی کا کیا ہوگا؟
رضوان الرحمن کی و الدہ کشور جہاں کا انتقال، ممتا کا اظہار تعزیت
کالی گھاٹ مندر سے لے کر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ تک کا ایک وسیع علاقہ زیر آب
سمندری طوفان کا مقام تبدیل،بارش کے امکانات مزید بڑھ گئے؟
موسلا دھار بارش سے کولکتہ میں سیلاب، 7 افراد ہلاک، سڑکیں 3 فٹ تک پانی سے ڈوبیں
قاتل کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے 24 گھنٹے، لیکن فوج کی گاڑی کے لیے صرف 4 گھنٹے؟
محکمہ موسمیات نے ستمبر کے پورے مہینے میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی