Kolkata

ضرورت پڑنے پر غیر قانونی تعمیرات کے انہدام کےلئے مرکزی فورس کی مدد لی جاسکتی ہے

ضرورت پڑنے پر غیر قانونی تعمیرات کے انہدام کےلئے مرکزی فورس کی مدد لی جاسکتی ہے

مشرقی کولکتہ میں آبی زمینوں پر قبضے اور وہاں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے مرکزی وزارتِ داخلہ کو اس کیس میں فریق بنانے کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ کی جسٹس امرتا سنہا نے اس سلسلے میں ریاستی حکومت اور کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے کردار پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا ریمارکس تھا کہ "ضرورت پڑنے پر مرکزی فورسز تعینات کر کے غیر قانونی تعمیرات کو گرانا ہو گا!" عدالت میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرقی کولکتہ میں 500 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں، جو آبی زمینوں کو بھر کر بنائی گئی ہیں۔ اس سے قبل بھی جسٹس سنہا کی عدالت میں کئی بار سماعت ہو چکی ہے، جہاں ریاستی انتظامیہ کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت کا حکم تھا کہ پولیس کے تعاون سے میونسپلٹی ان تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرے۔ الزام ہے کہ حکم کے باوجود عمل درآمد تو دور کی بات، کئی جگہوں کی نشاندہی تک نہیں کی گئی۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت میں جنوبی 24 پرگنہ کے ضلع مجسٹریٹ نے علاقے کی صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کی، جسے دیکھ کر جسٹس سنہا برہم ہو گئیں۔ انہوں نے کہا، "عملی طور پر کوئی کام نہیں ہو رہا، بس ایک کے بعد ایک رپورٹ جمع کرائی جا رہی ہے۔ میں اب رپورٹ نہیں، بلکہ عدالتی حکم پر عمل درآمد دیکھنا چاہتی ہوں۔" دوسری طرف، متعلقہ حکام نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ تعمیرات گرانے سے پہلے وہاں کے بجلی کے کنکشن کاٹنا ضروری ہے، لیکن چوبھاگا سمیت کئی علاقوں میں اہلکاروں کو شدید عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے کارروائی ممکن نہیں ہو سکی۔ جسٹس سنہا نے تبصرہ کیا، "بار بار ہدایت کے باوجود ریاست اور میونسپلٹی قدم نہیں اٹھا رہی ہیں۔ اگر ریاست عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو مرکز کا تعاون لیا جائے گا۔ ضرورت پڑی تو مرکزی فورسز لگا کر یہ تعمیرات گرائی جائیں گی۔" عدالت نے اب اس معاملے میں مرکز کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے اور اگلی سماعت 16 مارچ کو مقرر کی ہے۔

Source: PC- anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments