Kolkata

ذبیحہ گائے پر ہائی کورٹ نے بھی پابندی لگا دی

ذبیحہ گائے پر ہائی کورٹ نے بھی پابندی لگا دی

گزشتہ 13 مئی کو ریاستی حکومت نے جانوروں کے ذبیحہ کے حوالے سے جو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، کولکتہ ہائی کورٹ نے اسے برقرار رکھا ہے۔ چیف جسٹس سجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل بنچ نے واضح کیا ہے کہ ذبیحہ کے موزوں ہونے کے سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی جانور (سانڈ، بیل، گائے، بچھڑا، بھینسا، بھینس اور بھینس کے بچے) کا ذبیحہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ "عوامی مقامات پر جانوروں کا ذبیحہ ممنوع ہے" کی شرط کو نوٹیفکیشن میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ، گائے کی قربانی سے متعلق گزشتہ فیصلے کے مشاہدات کو بھی اس میں شامل کرنا ہوگا۔ قانون کی دفعہ 12 کے تحت، اگر چھوٹ کے لیے کوئی درخواست موصول ہوتی ہے، تو ریاست کو 24 گھنٹے کے اندر اس کا تصفیہ کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ریاست کو سرٹیفکیٹ دینے کے نظام اور اس کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے 'اسٹیٹ آف بہار بنام محمد حنیف قریشی' کیس میں سپریم کورٹ کے ایک مشاہدے کی یاد دہانی کرائی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ گائے کا ذبیحہ عید الاضحیٰ (بکرا عید) کا لازمی حصہ نہیں ہے اور اسلام میں یہ کوئی مذہبی ضرورت بھی نہیں ہے۔بکرا عید سے قبل ریاستی حکومت کی ان پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں کئی مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ عدالت نے قانون کی آئینی حیثیت پر کیس کی سماعت جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، لیکن ریاستی حکومت کے نوٹیفکیشن پر کوئی عبوری روک (اسٹے) نہیں لگائی۔ یعنی ریاستی حکومت کا 8 نکات پر مبنی نوٹیفکیشن فی الحال نافذ رہے گا۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments