Kolkata

'یکساں سول کوڈ' پر حکومت محتاط، بل اسمبلی میں پیش نہ ہو سکا

'یکساں سول کوڈ' پر حکومت محتاط، بل اسمبلی میں پیش نہ ہو سکا

مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے ریاست میں سب کے لیے برابر قانون یعنی 'یکساں سول کوڈ' نافذ کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم، پیر کے روز ریاستی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اہم بلوں میں یو سی سی بل شامل نہیں ہو سکا۔ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری کی حکومت فی الحال اس حساس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کا ماننا ہے کہ یکساں سول کوڈ کی مختلف شقوں پر مزید تفصیلی بات چیت کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بل کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کی سابق جسٹس رنجنا پرساد دیسائی کو اس کمیٹی کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جب اتراکھنڈ یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بنی تھی، تب بھی قانون کی باریکیوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سابق جسٹس رنجنا پرساد دیسائی کو ہی دی گئی تھی۔ اب مغربی بنگال حکومت بھی اسی راستے پر چل رہی ہے تاکہ ریاست کی آبادی اور ماحول کے لحاظ سے ایک متوازن بل تیار کیا جا سکے۔ بنگال میں یو سی سی بل لانے کے راستے میں کئی سیاسی اور سماجی رکاوٹیں ہیں، اسی لیے حکومت ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہی ہے اور مختلف برادریوں کی رائے کو شامل کرنے کے بعد ہی اسے نافذ کرنا چاہتی ہے۔ پیر کو ریاستی اسمبلی میں کئی اہم بل تو پیش کیے گئے، لیکن یو سی سی بل کو آخری لمحات میں روک دیا گیا۔ حکومت نے اس پر مزید غوروخوض کے لیے وقت مانگا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت نے سابق جسٹس رنجنا پرساد دیسائی سے اس سلسلے میں ابتدائی بات چیت کر لی ہے اور پیر کو ہی گفتگو کا ایک اور دور ہونا تھا، جس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین کا نام فائنل کر دیا جائے گا۔ ان تمام قانونی مراحل کے پورا ہونے کے بعد ہی یہ بل دوبارہ اسمبلی میں لایا جائے گا، تاہم یہ کب ہوگا، اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments