Kolkata

ٹی ایم سی میں جو موقع پرست ہیں، وہ پارٹی چھوڑ دیں گے، برے وقت میں ہی سچے کارکنوں کی پہچان ہوتی ہے: طارق انور

ٹی ایم سی میں جو موقع پرست ہیں، وہ پارٹی چھوڑ دیں گے، برے وقت میں ہی سچے کارکنوں کی پہچان ہوتی ہے: طارق انور

نئی دہلی: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں حالیہ دنوں پیدا ہونے والی اندرونی کشیدگی، اختلافات اور بعض لیڈروں کے استعفوں کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو اپنے سفر میں ایسے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں ہی کسی جماعت کے حقیقی اور مخلص کارکنوں کی پہچان ہوتی ہے، جبکہ ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے افراد اکثر ایسے مواقع پر پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور لیڈروں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں بعض افراد اپنے ذاتی مفادات کو پارٹی مفادات پر فوقیت دیتے ہیں۔ ایسے لوگ حالات سازگار ہونے تک جماعت کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی مشکلات پیدا ہوتی ہیں، وہ راستہ الگ کر لیتے ہیں۔ طارق انور کے مطابق ترنمول کانگریس میں بھی اگر کچھ لوگ محض مفاد کی بنیاد پر موجود ہیں تو ان کا پارٹی چھوڑ دینا کوئی حیران کن بات نہیں ہوگی۔ ٹی ایم سی کے رہنما محمد اجمل صدیقی کے حالیہ استعفے اور ان کے اس بیان پر کہ ’’ابھیشیک بنرجی کے ساتھ کام کرنا مشکل ہے‘‘، طارق انور نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان الزامات میں حقیقت بھی ہو تو ایسے اعتراضات اس وقت سامنے آنے چاہییں تھے جب پارٹی اقتدار میں تھی۔ ان کے مطابق انتخابی شکست یا سیاسی مشکلات کے بعد اس طرح کے بیانات دینا موقع پرستی کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جماعت اقتدار میں ہو، تنظیم مضبوط ہو اور سیاسی فائدے حاصل ہو رہے ہوں، تب خاموش رہنا اور بعد میں شکایات سامنے لانا سیاسی سنجیدگی کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی لیڈر کو تنظیمی معاملات یا قیادت سے متعلق اعتراضات ہوں تو انہیں بروقت اٹھانا چاہیے۔ واضح رہے کہ ٹی ایم سی کے اقلیتی سیل کے ریاستی سیکریٹری محمد اجمل صدیقی نے ہفتے کے روز پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو لکھے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ انہوں نے پارٹی کے لیے اپنی توانائیاں اور وقت وقف کیا تھا۔ انہوں نے ممتا بنرجی کی قیادت میں کام کرنے کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments