Kolkata

مغربی بنگال میں شرح پیدائش میں تشویشناک حد تک کمی

مغربی بنگال میں شرح پیدائش میں تشویشناک حد تک کمی

کولکتہ اور مغربی بنگال کے دیگر حصوں میں شرح پیدائش میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، کولکتہ میں یہ شرح 1 سے بھی نیچے (0.8) گر چکی ہے، جو کہ عالمی سطح پر کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ کسی بھی معاشرے کی آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ شرح 2.1 ہونی چاہیے۔ نوجوانوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں کولکتہ "بوڑھوں کا شہر" بن جائے گا اور یہاں کام کرنے والے نوجوانوں کی کمی ہو جائے گی۔ مغربی بنگال میں شرح پیدائش (1.1) قومی اوسط (1.5) سے کہیں کم ہے۔ یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں بھی بنگال کی شرح (1.4) قومی اوسط (2.1) سے بہت نیچے ہے۔خواتین اپنے کیریئر اور ذاتی آزادی کو ترجیح دے رہی ہیں۔زیادہ عمر میں شادی اور پھر اولاد کی خواہش نہ کرنا ایک رجحان بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیم اور صحت کے اخراجات کی وجہ سے جوڑے اولاد کی ذمہ داری اٹھانے سے کتراتے ہیں۔ بنگال میں ایک بچے والے خاندانوں کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیاں 'لکشمی بھنڈار' (نقدی امداد) جیسی اسکیموں پر تو بات کرتی ہیں، لیکن کم ہوتی آبادی کے اس سنگین مسئلے پر خاموش ہیں۔ چین، جاپان، سنگاپور اور اٹلی جیسے ممالک میں شرح پیدائش بڑھانے کے لیے حکومتیں جوڑوں کو نقد رقم، ٹیکس میں چھوٹ اور طویل رخصت جیسی مراعات دے رہی ہیں۔ بھارت میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے بھی دوسرے اور تیسرے بچے کی پیدائش پر مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔مختصر یہ کہ، اگر بنگال میں یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ریاست کو افرادی قوت (Human Resource) کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت 'لکشمی' یا 'انا پورنا' کے بجائے 'ششٹھی بھنڈار' (اولاد کی حوصلہ افزائی کی اسکیم) کے بارے میں سوچے، تاکہ بنگال کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔

Source: PC-sangbadpratidin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments