Kolkata

مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان تصادم

مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان تصادم

مغربی بنگال حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان تصادم نے اب ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی رخ اختیار کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایات کے باوجود معلومات کے تبادلے میں عدم مطابقت کی وجہ سے نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔سپریم کورٹ نے 4 تاریخ تک فہرست دینے کا حکم دیا تھا، لیکن ریاستی حکومت نے 7 تاریخ کو نام دیے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ ریاست نے 8505 افسران کے نام بھیجے ہیں، لیکن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 2000 افسران کی تفصیلی معلومات ابھی تک نہیں ملی ہیں۔ سب سے بڑا تنازع یہ ہے کہ فہرست میں شامل 500 افراد پہلے سے ہی AERO (اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر) کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ کمیشن کا سوال ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت AERO اور مائیکرو آبزرور کی ذمہ داری کیسے نبھائے گا؟ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ وہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا تنازع نہیں چاہتی۔ عدالت کے مشاہدات یہ تھے:منگل کی شام 5 بجے تک DEO اور ERO کے پاس رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔معلومات کی جانچ پڑتال کے بعد ہی طے کیا جانا تھا کہ کس کو کیا ذمہ داری دی جائے گی۔عدالت نے خبردار کیا کہ اگر یہ عدم تعاون جاری رہا تو چیف سکریٹری کو طلب کرنے جیسا سخت قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے اس واقعے کو "عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش" قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت سپریم کورٹ میں غلط بیانی کر رہی ہے۔ : انتظامی سطح پر ہم آہنگی کی کمی اور معلومات کا فقدان اب محض کمیشن کے لیے دردِ سر نہیں، بلکہ توہینِ عدالت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

Source: PC- tv9bangla

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments