Kolkata

ترنمول کانگریس نے سوبھن دیب چٹوپادھیائے کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور فرہاد حکیم کو چیف وہپ مقرر کیا

ترنمول کانگریس نے سوبھن دیب چٹوپادھیائے کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور فرہاد حکیم کو چیف وہپ مقرر کیا

کولکاتا: آل انڈیا ترنمول کانگریس نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے دن اسمبلی کے لیے اہم تقرریوں کا اعلان کیا۔ پارٹی نے سینئر رہنما سوبھن دیب چٹوپادھیائے کو اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسیما پاترا اور نینا بندیوپادھیائے کو ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن بنایا گیا ہے، جبکہ فرہاد حکیم کو چیف وہپ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں نئی تقرریوں پر رہنماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں امید ہے کہ یہ قائدین بنگال کے عوام کے مفاد میں پوری وابستگی کے ساتھ کام کریں گے۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 ریاست کی سیاسی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیے جا رہے ہیں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 207 نشستوں پر قبضہ جما لیا، جبکہ گزشتہ پندرہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی آل انڈیا ترنمول کانگریس کو صرف 80 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ان انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ درج کی گئی اور ریاست بھر میں سخت سیاسی مقابلہ، انتخابی تشدد، ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں اور مرکزی فورسز کی تعیناتی جیسے معاملات بھی بحث کا موضوع بنے رہے۔ انتخابی نتائج کو بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ 1960 کی دہائی کے بعد پہلی بار ریاست میں ترنمول کانگریس کے علاوہ کسی دوسری بڑی جماعت نے اتنی مضبوط اکثریت حاصل کی ہے۔ دریں اثنا سوویندو ادھیکاری نے آج مغربی بنگال کے پہلے بی جے پی وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ کولکاتا میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت بی جے پی کے کئی سینئر رہنما موجود تھے۔ سوویندو ادھیکاری نے نہ صرف نندی گرام بلکہ بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر بھی کامیابی حاصل کی، جہاں انہوں نے سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو بڑے فرق سے شکست دی۔ ان کی حلف برداری کو بنگال کی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقریباً 30 لاکھ حقیقی ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ’’انتہائی مشکل انتخابات‘‘ کا سامنا کیا اور الزام لگایا کہ سرکاری ایجنسیاں اور الیکشن کمیشن جانبدارانہ انداز میں کام کر رہے تھے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments