Kolkata

کلکتہ ہائی کورٹ نے آئی-پیک چھاپہ ماری کی کارروائی پر ترنمول کی درخواست نمٹا دی

کلکتہ ہائی کورٹ نے آئی-پیک چھاپہ ماری کی کارروائی پر ترنمول کی درخواست نمٹا دی

کولکاتہ، 14 جنوری : کلکتہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ترنمول کانگریس کی اس درخواست کو نمٹا دیا جس میں سالٹ لیک میں واقع آئی-پیک دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کی رہائش گاہ پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپہ ماری کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر ضبط کیے گئے ڈیٹا کی حفاظت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ چھاپہ ماری کی کارروائی 8 جنوری کو غیر قانونی کوئلہ اسمگلنگ کیس کے سلسلے میں کی گئی تھی۔ جسٹس سوبرا گھوش کے سامنے سماعت کے دوران، ای ڈی نے مطلع کیا کہ اس نے دونوں مقامات سے کوئی بھی دستاویزات یا ڈیٹا ضبط نہیں کیا ہے ۔ ای ڈی کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے دلیل دی کہ ترنمول کانگریس کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلاشی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے وہاں سے دستاویزات ہٹا دی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کارروائیوں کا آنے والے انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ سیاست پر مبنی نہیں ہیں۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر ایڈوکیٹ مینکا گروسوامی نے ان دعو¶ں کی مخالفت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ چھ سال بعد اور انتخابات سے چند ماہ قبل ہی ای ڈی اچانک کیوں متحرک ہوئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ای ڈی کے اس بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی ضبطی نہیں کی گئی ہے ۔ جسٹس گھوش نے ای ڈی کے اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہ کوئی ضبطی نہیں ہوئی، کہا کہ اب درخواست میں مزید کسی فیصلے کی ضرورت باقی نہیں رہی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے درخواست نمٹا دی۔ تاہم، عدالت نے ای ڈی کی اس علیحدہ درخواست پر سماعت ملتوی کردی جس میں 8 جنوری کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اس دن چھاپہ مار ی کی کارروائی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آئی-پیک دفتر اور پرتیک جین کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت تب کی جائے گی جب سپریم کورٹ اسی کیس میں ای ڈی کی درخواست پر سماعت مکمل کر لے گی۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments