Kolkata

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے متعدد افسران کے تبادلے کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے متعدد افسران کے تبادلے کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مغربی بنگال کے چیف سکریٹری سمیت متعدد افسران کے تبادلے کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کو برقرار رکھا ہے۔چیف جسٹس سوریا کانت نے واضح کیا کہ انتخابات کے پیش نظر عدالت فی الحال اس معاملے کی سماعت میں دلچسپی نہیں رکھتی، تاہم قانونی سوالات پر اس کیس کو زیر التوا رکھا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ افسران کے تبادلے ہر جگہ ہوتے ہیں اور یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا۔جب ترنمول کانگریس کے وکیل کلیان بنرجی نے مشاورت نہ کرنے کا سوال اٹھایا، تو چیف جسٹس نے کہا کہ جن افسران کا تبادلہ کیا گیا ہے وہ مغربی بنگال کیڈر کے ہی ہیں، لہٰذا اس میں جانبداری کا الزام کیوں لگایا جا رہا ہے؟ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو ریاستی انتظامیہ پر بھروسہ نہیں ہے اور ریاست کو کمیشن پر یقین نہیں ہے۔ انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہو جاتے ہیں۔ کلیان بنرجی نے دلیل دی کہ الیکشن سے قبل ریاست کے 1,100 افسران کو تبدیل کر دیا گیا ہے، جو کہ مغربی بنگال کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ ریاست کی جانب سے کہا گیا کہ چیف سکریٹری کا تبادلہ محض اس لیے کیا گیا کیونکہ انہوں نے چند تجاویز کی مخالفت کی تھی۔ ان کے بقول، محض اختلاف رائے تبادلے کی ٹھوس بنیاد نہیں ہو سکتا۔عدالت نے آخر میں واضح کیا کہ اگر افسران کو دیگر ریاستوں سے لایا جاتا تو شاید عدالت مداخلت کرتی، لیکن چونکہ وہ اسی کیڈر کے ہیں، اس لیے انتخابی عمل کے دوران مداخلت کی ضرورت نہیں۔

Source: PC-anandabazar

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments